دے دیا۔ پھر جس حالت میںؔ اس ابتدائی زمانہ میں خدا کا سارا کام قدرتی پایا جاتا عالم ثانی کے واقعات اور صانع عالم کی ہستی اور اس صانع کی مرضیات اور غیر مرضیات اور جزاسزا کی کیفیات اور کمیّات اور ارواح کے خلود اور بقا کے یقینی حالات معلوم کرنا یہ ایک ایسا باریک اور دقیق امر ہے کہ بجز ایک سماوی آلہ کے صحیح اور یقینی طور پر ہرگز معلوم نہیں ہوسکتا۔ اور جس طرح عقل نے دنیا کے احسن انتظام کے لئے ہزارہا آلات کی ضرورت ثابت کی ہے۔ اسی طرح اس جگہ بھی عقل سلیم اس نادیدہ عالم کا قطعی طور پر پتہ دریافت کرنے کے لئے ایک آسمانی آلہ کی ضرورت قرار دیتی ہے تا اس قادر مطلق کی ہستی جس کے سمجھنے میں لاکھوں عقلمندوں نے دھوکے کھائے ہیں یقینی اور قطعیؔ طور پر معلوم ہوجاوے۔ اور اسی طرح عالمِ جزا سزا بھی قطعی طور پر معلوم ہو تا طالب حق ظنیات سے ترقی کرکے اسی عالم میں حضرت باری تعالیٰ اور اس کی صفاتِ کاملہ اور عالم آخرت کو بعین الیقین دیکھ لے۔ اور وہ آلہ جو اس مرتبہ اعلیٰ یقین تک پہنچاتا ہے کلام الٰہی ہے جس کے ذریعہ سے انسان بہ یقین کامل خدائے تعالیٰ کے وجود اور اس کی صفات کاملہ اور عالم جزا سزا کو سمجھ لیتا ہے اور خدائے تعالیٰ نے لاکھوں انسانوں کو اس مرتبۂ معرفت تک پہنچا کر ثابت کردکھایا ہے کہ یہ آلہ خداشناسی کا فی الواقعہ دنیا میں موجود ہے۔ اور جو شخص اس سماوی آلہ سے روشنی حاصل نہیں کرتا وہ اس اندھے کی مانند ہے کہ جو ایک ایسی راہ میں چلتا ہے جس میں جابجا خندقیں ہیں اور ہریک طرف بڑے بڑے گڑھے ہیں اس کو کچھ خبر نہیں کہ سلامتی کی راہ کدھر ہے۔ کچھ پتہ نہیں کہ بچاؤ کی طرف کون سی ہے۔ کچھ خبر نہیں کہ انجام قدم اٹھانے کا کیا ہے۔ نہ آپ دیکھ سکتا ہے نہ کسی رہنما کا دامن پکڑا ہوا ہے اور نہ یہ جانتا ہے کہ آخر کس جگہ کا منہ دیکھنا نصیب ہے اور نہ یہ یقین ہے کہ جس مطلب کے لئے اس نے قدم اٹھایا ہے وہ مطلب ضرور حاصل ہوجائے گا۔ بلکہ آنکھیں بھی اندھی ہیں اور دل بھی اندھا ہے۔ پھر ایک اَور وسوسہ جو پنڈت صاحب کے دل کو پکڑتا ہے یہ ہے کہ الہامی کتاب