زمینؔ آسمان اور سورج و چاند وغیرہ اجرام پر نظر ڈال کر دیکھو کہ کیونکر اتنا بڑا کام ہوتا ہے یا خداوند کریم و رحیم نے میرے لئے کوئی اَور بھی راہ رکھا ہے۔ کیا اس نے میری تکمیل معرفت کے لئے کوئی اور راہ نہیں رکھا۔ اور مجھ کو صرف میرے ہی خیالات پر چھوڑ دیا ہے۔ کیا اس نے اس قدر مہربانی کرنے سے دریغ کیا ہے کہ جس جگہ میں اپنے کمزور پاؤں سے پہنچ نہیں سکتا اس جگہ وہ اب اپنی ربانی قوت سے مجھ کو پہنچادے۔ اور جن باریک چیزوں کو میں اپنی ضعیف آنکھ سے دیکھ نہیں سکتا۔ وہ مجھ کو اپنی عمیق نگاہ کی مدد سے آپ دکھادے۔ کیا یہ ممکن ہے کہ وہ میرے دل کو ایک دریا کی پیاس لگا کر پھر مجھ کو ایک ناچیز قطرہ پر جو قلت معرفت کی بدبو سے بھرا ہوا ہے روک رکھے۔ کیا اس کے ُ جود اور بخشش اور رحمت اور قدرت کا یہی تقاضا ہے؟ کیا اُس کی قادریت یہیں تک ہے کہ جو کچھ عاجز بندہ اپنے طور پر ہاتھ پاؤں مار کر خدا کے وجود کی نسبت کوئی ڈھکونسلہ اپنے دل میں قائم کرے اسی پر اس کی معرفت کو ختم کر دے اور اپنی الوہیت کی خاص قوتوں سے اس کو معرفت حقانی کے عالم کا سیر نہ کرادے۔ تو جب طالب حق ایسے سوالات اپنے دل سے کرے گا تو ضرور وہ اپنے دل سے یہی محکم جواب پاوے گا کہ بلاشبہ خدائے تعالیٰ کی بے انتہا بخشائشوں کا یہی تقاضا ہونا چاہئے کہ وہ اپنے عاجز بندہ کی آپ دستگیری کرے۔ گم گشتہ کو آپ راہ دکھاوے۔ کمزور کا آپ ہاتھ پکڑے۔ کیا ممکن ہے کہ خدائے تعالیٰ قادر ہوکر، توانا ہوکر، رحیم ہوکر، کریم ہوکر، حی ہوکر، قیوم ہوکر اپنی طرف سے ہمیشہ خاموشی اختیار کرے۔ اور بندہ جاہل اور نابینا اس کی جستجو میں آپ ٹکریں مارتا پھرے۔ ناتواناں را کجا تاب و تواں تانشاں یابند خود زاں بے نشاں عقلِ کوراں رہنما جویَد براہ رہبری از دانشِ کوراں مخواہ عقلِ ما ازبہرِ زاری و بکاست دفعِ آزار جہالت از خداست عقلِ طفل است ایں کہ گریَد زار زار شیر جز مادر نیاید زینہار سو اے ناظرین!! اس مضمون میں انصاف سے نظر کرو اور غور اور تعمق سے سوچو۔