تو اس صورت میں قرآنی بلاغت کی نظیر بنانا بھی ممنوع نہ ہوؔ گا سو واضح اگرچہ کوئی اپنے خبث باطن سے الہام الٰہی کا شکر گزار نہ ہو مگر درحقیقت اسی کے قوی ہاتھ اور پرزور بازو سے یقین اور صدق کی کشتی چل رہی ہے اور وہی خدادانی کے دریا کا ناخدا ہے اور اگر دہریہ اس کے آثار فیض سے بے بہرہ رہے ہیں تو یہ اس کا قصور نہیں بلکہ خود دہریہ اس شخص کی طرح ہیں کہ جو اپنی فطرت سے اندھا اور بہرہ ہو یا اس عضو کی طرح ہیں جو فاسد اور جذام خوردہ ہوگیا ہو۔ اس جگہ یہ بھی یاد رہے کہ اکیلی عقل کو ماننے والے جیسے علم اور معرفت اور یقین میں ناقص ہیں ویسا ہی عمل اور وفاداری اور صدق قدم میں بھی ناقص اور قاصر ہیں اور ان کی جماعت نے کوئی ایسا نمونہ قائم نہیں کیا جس سے یہ ثبوت مل سکے کہ وہ بھی ان کروڑہا مقدس لوگوں کی طرح خدا کے وفادار اور مقبول بندے ہیں کہ جن کی برکتیں ایسی دنیا میں ظاہر ہوئیں کہ ان کے وعظ اور نصیحت اور دعا اور توجہ اور تاثیر صحبت سے صدہا لوگ پاک روش اور باخدا ہوکر ایسے اپنے مولیٰ کی طرف جھک گئے کہ دنیا و مافیہا کی کچھ پرواہ نہ رکھ کر اور اس جہان کی لذّتوںؔ اور راحتوں اور خوشیوں اور شہرتوں اور فخروں اور مالوں اور ملکوں سے بالکل قطع نظر کرکے اس سچائی کے راستہ پر قدم مارا جس پر قدم مارنے سے ان میں سے سینکڑوں کی اور اگر وہ اس غرض کے حصول کے لئے ہماری طرف بصدق دل رجوع کرے تو ہم خدا کے فضل اور کرم پر بھروسہ کرکے اس کو طریق اتباع بتلانے کو طیار ہیں پر خدا کا فضل اور استعداد ذاتی درکار ہے۔ یہ یاد رکھنا چاہئے کہ سچی نجات سچی تندرستی کی مانند ہے پس جیسی سچی تندرستی وہ ہے کہ جس میں تمام آثار تندرستی کے ظاہر ہوں اور کوئی عارضہ منافی اور مغائر تندرستی کا لاحق نہ ہو اسی طرح سچی نجات بھی وہی ہے کہ جس میں حصول نجات کے آثار بھی پائے جائیں کیونکہ جس چیز کا واقعیؔ طور پر وجود متحقق ہو اس وجود متحقق کے لئے آثار و علامات کا پائے جانا لازم پڑا ہوا ہے اور بغیر تحقق وجود ان آثار و علامات کے وجود اس چیز کا متحقق نہیں ہوسکتا اور جیسا کہ ہم بارہا لکھ چکے ہیں تحققِ نجات کے لئے یہ علامات خاصہ ہیں کہ انقطاع