ہر قسم کی ترقی کرنا اور مرتبۂ کمالؔ تک پہونچ جانا عندالعقل ممنوع نہیں ہے خداترس روحوں میں مضبوطی سے جما دیا ہے اور کروڑہا دلوں پر ایک بزرگ اثر ڈال رکھا ہے پس چونکہ اسی کی مستحکم اور قدیمی شہادتوں کی بلند آوازوں سے ہریک انسان کی قوت سامعہ بھر گئی ہے اور ہریک عصبہ سماعت کی تمام تار وپود میں وہ دلربا آوازیں ایسی سرایت کرگئی ہیں کہ ایک نادان اور اُمی آدمی کہ جو عقل کے نام سے بھی واقف نہیں اور نہ یہ جانتا ہے کہ دلائل کیا چیز ہیں اگر خدا کی ہستی کے بارہ میں سوال کیا جائے کہ آیا وہ موجود ہے یا نہیں تو ایسے سائل کو وہ نہایت درجہ کا احمق جانتا ہے اور خدا کی ہستی پر ایسا پختہ اعتقاد رکھتا ہے کہ اگر تمام مجرد عقل پرست ایک طرف رکھےؔ جائیں اور دوسری طرف اس کو رکھا جائے تو اس کے یقین کا پلہ بھاری ہو اور لطف یہ کہ معقولیوں اور فلسفیوں کی طرح ایک دلیل بھی اسے یاد نہیں ہوتی بلکہ اس کی بلا کو بھی خبر نہیں ہوتی کہ برہان اور دلیل اور حجت اور قیاس کسے کہتے ہیں غرض انہیں برکتوں کے سہارے سے برہمو سماج والے بھی باوجود سخت بیراہی اختیار کرنے کے اب تک کسی قدر خدا کی ہستی کے قائل ہیں اور خدا کے موجود ہونے کی بزرگ شہرت نے ان کے خیالات کو بھی آوارہ گردی سے تھام رکھا ہے پس ٹھنڈی اور دلارام ہوا سے اس کو ہر دم اور ہر لحظہ تازہ زندگی بخشتی رہتی ہے پس وہ اپنی وفات سے پہلے ہی ان عنایات الٰہیہ کو بچشم خود دیکھ لیتا ہے جن کے دیکھنے کے لئے دوسرے لوگ بعد مرنے کے امیدیں باندھتے ہیں اور یہ سب نعمتیں کسی راہبانہ محنت اور ریاضت پر موقوف نہیں بلکہ صرف قرآن شریف کے کامل اتباع سے دی جاتی ہیں اور ہریک طالب صادق ان کو پاسکتا ہے ہاں ان کے حصول میں خاتم الرسل اور فخر الرسل کی بدرجہ کامل محبت بھی شرطؔ ہے تب بعد محبت نبی اللہ کے انسان ان نوروں میں سے بقدر استعداد خود حصہ پالیتا ہے کہ جو کامل طور پر نبی اللہ کو دی گئی ہیں۔ پس طالب حق کے لئے اس سے بہتر اور کوئی طریق نہیں کہ وہ کسی صاحب بصیرت اور معرفت کے ذریعہ سے خود اس دین متین میں داخل ہوکر اور اتباع کلام الٰہی اور محبت رسول مقبول اختیار کرکے ہمارے ان بیانات کی حقیت کو بچشم خود دیکھ لے