ہو کہ یہ وسوسہ اول تو ہماری اس تقریر متذکرہ بالا سے دور ہوتا ہے جس میں ہم نے جانیں تلف ہوئیں ہزارہا سرکاٹے گئے لاکھوں مقدسوں کے خون سے زمین تر ہوگئی پر باوجود ان سب آفتوں کے انہوں نے ایسا صدق دکھایا کہ عاشق دلدادہ کی طرح پابزنجیر ہوکر ہنستے رہے اور دکھ اٹھا کر خوش ہوتے رہے اور بلاؤں میں پڑ کر شکر کرتے رہے اور اسی ایک کی محبت میں وطنوں سے بے وطن ہوگئے اور عزت سے ذلت اختیار کی اور آرام سے مصیبت کو سرپر لے لیا اور تونگری سے مفلسی قبول کرلی ور ہریک پیوند و رابطہ اور خویشی سے غریبی اور تنہائی اور بے کسی پر قناعت کی اور اپنے خون کے بہانے سے اور اپنے سروں کے کٹانے سے اور اپنی جانوں کے دینے سے خدا کی ہستی پر مہریں لگادیں اور کلام الٰہی کی سچی متابعت کی برکت سے وہ انوار خاصہ ان میں پیدا ہوگئے کہ جو ان کے غیر میں کبھی نہیں پائے گئے اور ایسے لوگ نہ صرف پہلے زمانوں میں موجود تھے بلکہ یہ برگزیدہ جماعت ہمیشہ اہلِ اسلام میں پیدا ہوتی رہتی ہے اور ہمیشہ اپنے نورانی وجود سے اپنے مخالفین کو ملزم و لاجواب کرتی آئی ہے لہذا منکرین پر ہماری یہ حجت بھی تمام ہے کہ قرآن شریف جیسے مراتب علمیہ میں اعلیٰ درجہ کمال تک پہونچاتا ہے ویسا ہی مراتب عملیہ کے کمالات بھی اسی کے ذریعہ سے ملتے ہیں اور آثار و انوار قبولیت حضرت احدیت انہیں لوگوں میں ظاہر الی اللہ اور غلبۂ حُبّ الٰہی اس قدر کمال کے درجہ تک پہونچ جائے کہ اس شخص کی صحبت اور توجہ اور دعا سے بھی یہ امور دوسرے ذی استعداد لوگوں میں پیدا ہوسکیں اور خود وہ اپنی ذاتی حالت میں ایسا منورالباطن ہوکہ اس کی برکات طالب حق کی نظر میں بدیہی الظہور ہوں اور اس میں وہ تمام خصوصیّات اور مخاطبات حضرت احدیت پائی جائیں کہ جو مقربین میں پائی جاتی ہیں۔ اس جگہ کوئی شخص نجومیوں اور جوتشیوں وغیرہ غیب گویوں کی پیشگوئیوں پر دھوکا نہ کھاوے اور بخوبی یاد رکھے کہ ان لوگوں کو اہل اللہ کے انوار اور برکات سے کچھ بھی مناسبت نہیں۔ ہم پہلے بھی لکھ چکے کہ قادرانہ پیشگوئیوں اور کریمانہ مواعید کہ جو حق محضؔ ہیں اور جن میں سراسر