کرنے سے قاصر اور عاجز رہے اور جب کلام کی بلاغت اور فصاحت میں
کی ذات پر آیا وہی اثر کسی دن ان کے لئے بھی درپیش ہے توقف صرف اتنا ہی ہے کہ ابھی اُن کو خدا کیؔ پوری جستجو اور تلاش میں بہت سی کسر باقی ہے اور ہنوز دنیا ہی پیاری اور میٹھی معلوم ہوتی ہے اور دن رات اسی کا سودا ہے اور اسی کے لئے سمندر چیرتے ہوئے دور دراز ملکوں میں چلے جاتے ہیں اور ابھی تک آخرت کے ملک کا ان کو دھیان ہی نہیں اور نہ اس مالکُ الملک کا کچھ خیال ہے مگر ماشاء اللہ جب وہ دن آئیں گے کہ وہ مجرد عقل کے ذریعہ سے اس بات کا فیصلہ کرنا چاہیں گے کہ اگر خدا موجود ہے تو کہاں ہے اور کیوں اس کا وجود تمام موجود چیزوں کی طرح محسوس نہیں تو پھر ایسا فیصلہ ہوگا کہ یا تو اس ذات لطیف کے کلام پر ایمان لانا پڑے گا اور یا یہ فرضی قول بھی ہاتھ سے چھوڑنا پڑے گا کہ مصنوعات کے لئے ایک صانع ہونا چاہئے دوسرا باعث جس کی تقویت سے مجرد عقل پرست جلد تر دہریہ بننے سے رک جاتے ہیں الہام الٰہی کی برکتیں اور وحی اللہ کے آفتاب کی شعاعیں ہیں جنہوں نے خدا کی ہستی کو شہرہ آفاق کردیا ہے اور جن کی متواتر بارشوں نے اقرار ہستی الٰہی کو لاکھوں
سے بالکل پاک ہوکر حضرت اعلیٰ سے اتصال پکڑلیتا ہے اور انوار قبولیت اس پر وارد ہونے شروع ہوجاتے ہیں اور عنایات الٰہیہ اس قدر اس پر احاطہ کرلیتی ہیں کہ جب وہ مشکلات کے وقت دعا کرتا ہے تو کمال رحمت اور عطوفت سے خداوند کریم اس کا جواب دیتا ہے اور بسا اوقات ایسا اتفاق ہوتا ہے کہ اگر وہ ہزار مرتبہ ہی اپنی مشکلات اور ہجوم غموں کے وقت میں سوال کرےؔ تو ہزارہا مرتبہ ہی اپنے مولیٰ کریم کی طرف سے نہایت فصیح اور لذیذ اور متبرّک کلام میں محبّت آمیز جواب پاتا ہے اور الہام الٰہی بارش کی طرح اس پر برستا ہے اور وہ اپنے دل میں محبت الٰہیہ کو ایسا بھرا ہوا پاتا ہے جیسا ایک نہایت صاف شیشہ ایک لطیف عطر سے بھرا ہوتا ہے اور انس اور شوق کی ایک ایسی پاک لذت اس کو عطا کی جاتی ہے کہ جو اس کی سخت سخت نفسانی زنجیروں کو توڑ کر اور اس دخانستان سے باہر نکال کر محبوب حقیقی کی