یہ بات بالکل غیر معقول اور خلاف قیاس ہے کہ انسان اپنی ایجاد میں ترقیاتؔ دھوکاؔ مت کھانا کہ اگر نری عقل کا انجام دہریہ پن ہے تو اب تک برہمو سماج والے کیوں کسی قدر خدا کے وجود کے اقراری ہیں اور کیوںیک لخت انکاری نہیں ہوجاتے اس کے دو باعث ہیں ایک تو یہ کہ ہنوز ان کو اپنے خیالات میں پوری پوری ترقی حاصل نہیں ہوئی اور جس وجود کو فرضی طور پر انہوں نے قرار دے لیا ہے ابھی تک اسی فرضی خیال پر ٹھہرے ہوئے ہیں اور تاحال آگے قدم بڑھا کر اس جستجو میں نہیں پڑے کہ اس فرضی وجود کا خارج میں کہیں پتہ لگاویں مگر یہ بات یاد رکھو کہ جب ہی کہ وہ اپنے خیالات میں ترقی کرکے کچھ آگے قدم بڑھاویں گے تو پہلا اثر اس پیش قدمی کا یہی ہوگا کہ ان کے دلوں میں یہ کھٹکا پیدا ہوجائے گا کہ جس ذات کو ہم حی قیوم اور ہر جگہ موجود تسلیم کررہے ہیں وہ کہاں اور کدھر اور کس طرف ہے۔ اگر وہ واقعی طور پر بوجود خارجی موجود ہے توپھر اس کا کیوں پتہ نہیں ملتا اور کیوں وہ تلاش کرنے والوں پر اپنی ہستی کو ظاہر نہیں کرتا اس کھٹکے کے پیدا ہونے سے یا تو وہ بالآخر الہام حقیقی پر ایمان لائیں گے اور اپنے نفس کو ورطۂ شبہات سے چھوڑا لیں گے اور اگر یہ نہیں تو پھر ذرا خیالات کی ترقی ہونے دیجئے پھر دیکھنا کہ پکے دہریہ ہیں یا نہیں۔ انہیں کے لاکھوں بھائی کہ جو مجرد عقل کے پابند تھے جب ان کے خیالات نے ترقی کی تو آخر طبعیہ اور دہریہ ہوکر مرے یہ کچھ انوکھے عقل پرست نہیں ہیں کہ جو خیالات میں ترقی کرکے دہریہ نہیں بنیں گے بلکہ خدا کی رہائش کے شیش محل انہیں نظر آجائیں گے بلاشبہ جو کچھ اثر خیالات کی ترقی سے پہلے عقلمندوں خیالاتؔ باطلہ گمراہ لوگوں کے دلوں میں جم رہے ہیں سب کا ردّ معقولی طور پر اس میں موجود ہے اور جو جو تعلیم حقہ اور کاملہ کی روشنی ظلمت موجودہ زمانہ کے لئے درکار ہے وہ سب آفتاب کی طرح اس میں چمک رہی ہے اور تمام امراض نفسانی کا علاج اس میں مندرج ہے اور تمام معارف حقہ کا بیان اس میں بھرا ہوا ہے اور کوئی دقیقہ علم الٰہی نہیں کہ جو آئندہ کسی وقت ظاہر ہوسکتا ہے اور اس سے باہر رہ گیا ہو۔ اور باطنی طریق سے اس طور پر کہ اس کی کامل متابعت دل کو ایسا صاف کردیتی ہے کہ انسان اندرونی آلودگیوں