متعلقہ کلام میں جیسا کہ چاہئے انسان مراتب اقصیٰؔ تک پہونچ سکتا ہے کیونکہ کے قرار دینے میں غلطی کی ہو اور شاید دہریہ اور طبعیہ ہی سچے ہوں کہ جو عالم کی بعض اجزا کو بعض کا صانع قرار دیتے ہیں اور کسی دوسرے صانع کی ضرورت نہیں سمجھتے میں جانتا ہوں کہ جب نرا عقل پرست اس باب میں اپنے خیال کو آگے سے آگے دوڑائے گا تو وسوسہ مذکورہ ضرور اس کے دل کو پکڑ لے گا کیونکہ ممکن نہیں کہ وہ خدا کے ذاتی نشان سے باوجود سخت جستجو اور تگاپو کے ناکام رہ کر پھر ایسے وساوس سے بچ جائے وجہ یہ کہ انسان میں یہ فطرتی اور طبعی عادت ہے کہ جس چیز کے وجود کو قیاسی قرائن سے واجب اور ضروری سمجھے اور پھر باوجود نہایت تلاش اور پرلے درجہ کی جستجو کے خارج میں اس چیز کا کچھ پتہ نہ لگے تو اپنے قیاس کی صحت میں اس کو شک بلکہ انکار پیدا ہوجاتا ہے اور اس قیاس کے مخالف اور منافی سینکڑوں احتمال دل میں نمودار ہوجاتے ہیں اور بارہا ہم تم ایک مخفی امر کی نسبت قیاس دوڑایا کرتے ہیں کہ یوں ہوگا یا وُوں ہوگا اور جب بات کھلتی ہے تو وہ اور ہی ہوتی ہے انہیں روزمرہ کے تجارب نے انسان کو یہ سبق دیا ہے کہ مجرد قیاسوں پر طمانیت کرکے بیٹھنا کمال نادانی ہے غرض جب تک قیاسی اٹکلوں کے ساتھ خبر واقعہ نہ ملے تب تک ساری نمائش عقل کی ایک سراب ہے اس سے زیادہ نہیں جس کا آخری نتیجہ دہریہ پن ہے سو اگر دہریہ بننے کا ارادہ ہے تو تمہاری خوشی ورنہ وساوس کے تند سیلاب سے کہ جو تم سے بہتر ہزارہا عقلمندوں کو اپنی ایک ہی موج سے تحت الثریٰ کی طرف لے گیا ہے صرف اُسی حالت میں تم بچ سکتے ہو کہ جب عروہ و ثقیٰ الہام حقیقی کو مضبوطی سے پکڑلو ورنہ یہ تو ہرگز نہیں ہوگا کہ تم مجرد خیالات عقلیہ میں ترقی کرتے کرتے آخر خدا کو کسی جگہ بیٹھا ہوا دیکھ لو گے بلکہ تمہارے خیالات کی ترقی کا اگر کچھ انجام ہوگا تو بالآخر یہی انجام ہوگا کہ تم خدا کو بے نشان پاکر اور زندوں کی علامات سے خالی دیکھ کر اور اس کے سراغ لگانے سے عاجز اور درماندہ رہ کر اپنے دہریہ بھائیوں سے ہاتھ جاملاؤ گے اور اِس سے ظاہر ہوجاتے ہیں کیونکہ وہی کتاب ہے کہ جو دونوں طریق ظاہری اور باطنی کے ذریعہ سے نفوس ناقصہ کو بمرتبہ تکمیل پہونچاتی ہے اور شکوک اور شبہات سے خلاصی بخشتی ہے۔ ظاہری طریق سے اس طرح پر کہ بیان اس کا ایسا جامع دقائق و حقائق ہے کہ جس قدر دنیا میں ایسے شبہات پائے جاتے ہیں کہ جو خدا تک پہنچنے سے روکتے ہیں جن میں مبتلا ہوکر صدہا جھوٹے فرقے پھیل رہے ہیں اور صدہا طرح کے