اور جبکہ انسان کی ایجاد ہوئی توؔ پھر بلاغت اور فصاحت اور دوسرے کمالاتِ اور رہنمائی کا کام دے رہا ہے رہزن اور مزاحم تصور کیا جاتا ہے اور جو گڑھے سے باہر نکالتا ہے اس کو گڑھے کے اندر دھکیلنے والا سمجھ رہے ہیں سارا جہان جانتا ہے اور تمام آنکھوں والے دیکھ رہے ہیں اور غور کرنے والی طبیعتیں مشاہدہ کررہی ہیں کہ دنیا میں عقل کی خوبی اور عظمت کو ماننے والے لاکھوں ایسے ہوگزرے ہیں اور اب بھی ہیں کہ جو باوجود اس کے کہ عقل کے پیغمبر پر ایمان لائے اور عاقل کہلائے اور عقل کو عمدہ چیز اور اپنا رہبر سمجھتے تھے مگر باایں ہمہ خدا کے وجود سے منکر ہی رہے اور منکر ہی مرے لیکن ایسا آدمی کوئی ایک تو دکھلاؤ کہ جو الہام پر ایمان لاکر پھر بھی خدا کے وجود سے انکاری رہا پس جس حالت میں خدا پر محکم ایمان لانے کے لئے الہام ہی شرط ہے تو ظاہر ہے کہ جس جگہ شرط مفقود ہوگی اس جگہ مشروط بھی ساتھ ہی مفقود ہوگا سو اب بدیہی طور پر ثابت ہے کہ جو لوگ الہام سے منکر ہو بیٹھے ہیں انہوں نے دیدہ و دانستہ بے ایمانی کی راہوں سے پیار کیا ہے اور دہریہ مذہب کے پھیلنے اور شائع ہوجانے کو روا رکھا ہے یہ نادان نہیں سوچتے کہ جو وجود غیب الغیب نہ دیکھنے میں آسکتا ہے نہ سونگھنے میں نہ ٹٹولنے میں اگر قوت سامعہ بھی اس ذات کامل کے کلام سے محروم اور بے خبر ہو تو پھر اس ناپیدا وجود پر کیونکر یقین آوے اور اگر مصنوعات کے ملاحظہ سے صانع کا کچھ خیال بھی دل میں آیا لیکن جب طالب حق نے مدتُ العمر کوشش کرکے نہ کبھی اس صانع کو اپنی آنکھوں سے دیکھا نہ کبھی اُس کے کلام پر مطلع ہوا نہ کبھی اُس کی نسبت کوئی ایسا نشان پایا کہ جو جیتے جاگتے میں ہوناؔ چاہئے تو کیا آخر اس کو یہ وسوسہ نہیں گزرے گا کہ شاید میری فکر نے ایسے صانع اسی عالم میں حقیقت نجات کو پالیتا ہے۔ اب جبکہ سچےؔ نجات دہندہ کی یہی علامت ٹھہری اور یہی طالب حق کا مقصود اعظم ہے کہ جو اس کی زندگی کا اصل مقصد اور اس کے مذہب پکڑنے کی علت غائی ہے تو سمجھنا چاہئے کہ یہ علامت صرف حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم میں پائی جاتی ہے اور انہیں کی اتباع سے کہ جو قرآن شریف کی اتباع پر منحصر ہے باطنی نور اور محبت الٰہیہ حاصل ہوتی ہے قرآن شریف جو آنحضرت کی اِتباع کا مدار علیہ ہے ایک ایسی کتاب ہے جس کی متابعت سے اسیؔ جہان میں آثار نجات کے