صدہا چیزیں ایک ہی جنس کی ہوتی ہیںؔ بلکہ ایک ہی صنف کے تحت میں داخل ہوتی ایک جگہ فراہم ہوکر اپنی طرف کھینچتے ہیں اور اپنے فوائد نقد کی خوبیاں پیش کرتے ہیں پس ان کے اتفاق اور اژدہام میں ایک ایسا زور پیدا ہوجاتا ہے کہ خیالات خود تراشیدہ ان کی مدافعت نہیں کرسکتے بلکہ ایک دم بھی ان کے مقابلہ پر ٹھہر نہیں سکتے ایسے جنگ کے موقعہ میں خدا کے کلام کی پرزور بندوقیں درکار ہیں کہ تا مخالف کی صف کو ایک ہی فیر میں اڑادیں۔ کیا کوئی کام یکطرفہ بھی ہوسکتا ہے پس یہ کیونکر ممکن ہے کہ خدا ایک پتھر کی طرح ہمیشہ خاموش رہے اور بندہ وفاداری میں صدق میں صبر میں خودبخود بڑھتا جائے اور صرف یہی ایک خیال کہ آسمان اور زمین کا البتہ کوئی خالق ہوگا اُس کو ہمیشہؔ کی قوت دے کر عشق کے میدانوں میں آگے سے آگے کھینچتا چلا جائے خیالی باتیں واقعی باتوں کی ہرگز قائم مقام نہیں ہوسکتیں اور نہ کبھی ہوئیں مثلاً ایک مفلس قرض دار نے کسی راست باز دولت مند سے وعدہ پایا ہے کہ عین وقت پر میں تیرا کل قرضہ ادا کردوں گا اور دوسرا ایک اور مفلس قرضدار ہے اس کو کسی نے اپنی زبان سے وعدہ نہیں دیا وہ اپنے ہی خیالات دوڑاتا ہے کہ شاید مجھ کو بھی وقت پر روپیہ مل جائے کیا تسلی پانے میں یہ دونوں برابر ہوسکتے ہیں ہرگز نہیں ہرگز نہیں یہ سب قوانین قدرت ہی ہیں۔ قوانین قدرت سے کون سی حقانی صداقت باہر ہے۔ پر افسوس ان لوگوں پر کہ جو قوانین قدرت کی پابندی کا دعویٰ کرتے کرتے پھر انہیں توڑ کر دوسری طرف بھاگ گئے اور جو کچھ کہا تھا اس کے برعکس عمل میں لائے۔ اے برہمو سماج والو اگر تم کو دینی اُمور میں دلسوزی سے نظر نہیں۔ اگر تمہیں معاد کی کچھ بھی پرواہ نہیں تو کیا ابھی تک دنیوی امور میں تم پر ثابت نہیں ہوچُکا کہ عقل نے تن تنہا کوئی کام تمہاری دنیا کا کبھی سرے تک نہیں پہونچایا کیا تمہیں اس صداقت کے ماننے سے ہنوز کسی عذر کی گنجائش ہے اس کا ظلمات نفسانیہ اور اَدْناسِ بشریہ سے نجات پاجائے اور اس میں وہ انوار پیدا ہوجائیں جن کا پاک دلوںؔ میں پیدا ہوجانا ضروری ہے ہاں جب تک پیروی کنندہ کی متابعت میں کسر ہو تب تک ظلماتِ نفسانیہ دور نہیں ہوں گے اور نہ انوارِ باطنیہ ظاہر ہوں گے لیکن یہ اس نبی متبوع کا قصور نہیں بلکہ خود وہ مدع ئ اِتباع کا اعراض صوری یا معنوی