کاش مسئلہ خواصؔ الاشیاء حق کا یاد رکھتے کیا انہیں معلوم نہیں کہ
تسلی اور تشفی اور تسکین خاطر کا کہ جو جذبات نفسانی اور آلام روحانی کو دور کرنے والا ہو صرف خدا کے کلام سے حاصل ہوسکتا ہے اور قانون قدرت پر نظر ڈالنے سے اس سے عمدہ تر موجب تسلی و تشفی کا اور کوئی امر قرار نہیں پاسکتا جب کوئی آدمی خدا کے کلام پر پورا پورا ایمان لاتا ہے اور کوئی اعراض صوری یا معنوی درمیان نہیں ہوتا تو خدا کا کلام اس کو بڑے بڑے گردابوں میں سے بچالیتا ہے اور سخت سخت جذبات نفسانی کا مقابلہ کرتا ہے اور بڑے بڑےؔ ُ پردہشت حادثوں میں صبر بخشتا ہے جب دانا انسان کسی مشکل یا جذبہ نفسانی کے وقت میں خدا کے کلام میں وعد اور وعید پاتا ہے یا کوئی دوسرا اسے سمجھاتا ہے کہ خدا نے ایسا فرمایا ہے تو ایکبارگی اس سے ایسا متاثر ہوجاتا ہے کہ توبہ پر توبہ کرتا ہے۔ انسان کو خدا کی طرف سے تسلی پانے کی بڑی بڑی حاجتیں پڑتی ہیں بسا اوقات وہ ایسی سخت مصیبت میں گرفتار ہوجاتا ہے کہ اگر خدا کا کلام آیا نہ ہوتا اور اس کو اپنی اس بشارت سے مطلع نہ کرتا 3
333۔ ۱ تو وہ بے حوصلہ ہوکر شاید خدا کے وجود سے ہی انکار کرتا اور یا ناامیدی کی حالت میں خدا سے بکلی رابطہ توڑ دیتا اور یا غموں کے صدمہ سے ہلاک ہوجاتا۔ اسی طرح جذبات نفسانی ایسے ہیں کہ جن کی کسرِ ثوران کے لئے خدا کے کلام کی ضرورت تھی اور قدم قدم میں انسان کو وہ امور پیش آتے ہیں جن کا تدارک صرف خدا کا کلام کرسکتا ہے جب انسان خدا کی طرف متوجہ ہونا چاہتا ہے تو صدہا موانع اس کو اس توجہ سے روکتے ہیں کبھی اس دنیا کی لذت یاد ہوتی ہے کبھی ہم مشربوں کی صحبت دامن کھینچتی ہے کبھی اس راہ کی تکالیف ڈراتی ہیں کبھی قدیمی عادات اور ملکات راسخہ سنگ راہ ہوجاتی ہیں کبھی ننگ کبھی نام کبھی ریاست کبھی حکومت اس راہ سے روکنا چاہتی ہے اور کبھی یہ سارے ایک لشکر کی طرح
اس کا جواب بھی یہی ہے کہ خدا کی طرف سے سچا نجات دہندہ وہؔ شخص ہے جس کی متابعت سے سچی نجات حاصل ہو یعنی خدا نے اس کے وعظ میں یہ برکت رکھی ہو کہ کامل پیرو