ہیں مگر پھر بھی حکیم مطلق نے ہریک چیز میں جداؔ جدا خواص مودّع کئے ہیں۔
کہ عقل کو کبھی یہ لیاقت حاصل نہیں ہوئی کہ بغیر اشتمال کسی دوسرے رفیق کے بذات خود کسی کام کو بوجہ احسن و اکمل انجام دے سکے سچ کہو کیا ابھی تک تمہیں اس بات کا امتحان نہیں ہوا کہ جو کام صرف عقل پر پڑا وہی مشتبہ اور مظنون اور ناتمام رہا اور جب تک واقعات کا نقشہ بذریعہ کسی واقعہ دان کے طیار ہوکر نہ آیا تب تک تمام کام عقل اور قیاس کا ادھورا اور خام رہا تم انصاف سے کہو کیا تمہیں آج تک اس بات کی خبر نہیں کہ ہمیشہ سے عقلمند لوگوں کا یہی شعار ہے کہ وہ اپنی قیاسی وجوہ کو کبھی تجربہ سے تقویت دے لیتے ہیں اور کبھی تواریخ سے اور کبھی نقشہ جات موقعہ نما سے اور کبھی خطوط اور مراسلات سے اور کبھی اپنی ہی قوت باصرہ اور سامعہ اور شامہ اور لامسہ وغیرہ کی گواہی سے پس اب تو تم آپ ہی سوچو اوراپنے دلوں میں آپ ہی خیال کرو اور اپنی نگاہوں میں آپ ہی جانچ لو کہ جس حالت میں دنیوی امور کے لئے کہ جو مشہود اور محسوسؔ ہیں دوسرے رفیقوں کی حاجت پڑے تو پھر ان امور کے لئے کہ جو اس عالم سے وراء الوراء اور غیب الغیب اور اخفی من الاخفی ہیں کس قدر زیادہ حاجت ہے اور جس حالت میں مجرد عقل دنیا کے سہل اور آسان امور کے لئے بھی کافی نہیں تو پھر امور معاد کے دریافت کرنے میں کہ جو اَدق اور اَلْطَف ہیں کیونکر کافی ہوسکتی ہے اور جبکہ تم معاشرت کے ناپائیدار اور ناچیز کاموں میں جن کا نفع نقصان ایک گزر جانے والی چیز ہے مجرد قیاس اور عقل کو قابل اطمینان نہیں سمجھتے تو پھر آپ لوگ امور معاد میں جن کے آثار دائمی اور جن کے خطرات لاعلاج ہیں فقط اسی عقل ناقص پر کیونکر بھروسہ کرکے بیٹھ رہے ہیں کیا یہ اس بات کا عمدہ ثبوت نہیں کہ آپ لوگوں نے آخرت کے فکر کو پس پشت ڈال رکھا ہے اور جیفۂ دنیا بڑا لذیذ اور مزہ دار معلوم ہورہا ہے
کی آفت میں گرفتار ہے اور اسی اعراض کی وجہ سے محروم اور محجوب ہے یہی حقیقی علامت ہے جس سے انسان گزشتہ قصوں اور کہانیوں کا محتاج نہیں ہوتا بلکہ خود طالب حق بن کر سچے ہادی اور حقیقی فیض رساں کوؔ شناخت کرلیتا ہے اور اس تقدس اور نور کو