عظمت و شوکت بھی زیادہ تر ہے اور اگر اس دلیل کو بھی نظر سے ساقط کردیا تھا تو ہے ایسے وقت میں اگر کوئی ایسا شخص کہ جو اس کی نظر میں نہایت مقدّس و کامل و بزرگوار ہے‘ اسے سمجھا جاتا ہے کہ صبر کر صابروں کے جناب الٰہی میں بڑے بڑے اجر ہیں اور یہ دنیا ہمیشہ رہنے کی جگہ نہیں سوؔ اگرچہ یہ بات اس کو پہلے بھی معلوم ہی تھی پر اس کے مونہہ سے سن کر ایک عجیب طرح کا اثر ہوتا ہے کہ جو گرتے ہوئے کو تھام لیتا ہے۔ خلاصہ یہ کہ ہر وقت اور ہر محل میں اپنے ہی خود تراشیدہ خیالات اپنے دل پر اثر ڈال نہیں سکتے بلکہ بسا اوقات جذبات نفسانی یا آلام روحانی سے ایسی عقل دب جاتی ہے کہ انسان میں سوچنے اور سمجھنے کی قوت ہی نہیں رہتی اور اس وقت وہ خود اپنے تئیں اس حالت میں پاتا ہے کہ اس کے لئے کسی دوسرے کی طرف سے ترغیب یا ترہیب یا تسلی تشفی کی باتیں صادر ہوں۔ پس ان تمام امور پر نظر ڈالنے سے دانا انسان اس نتیجہ تک پہونچ سکتا ہے کہ خدا نے جو اس کی فطرت کو ایسا بنایا ہے یہی وضع فطرت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اس حکیم مطلق نے انسان ضعیف البنیان کو اپنی ہی رائے اور قیاس پر چھوڑنا نہیں چاہا بلکہ جس طور کے واعظوں اور متکلموں سے اس کی تسلی اور تشفی ہوسکتی ہے اور اس کے جذبات نفسانی دب سکتے ہیں اور اس کی روحانی بے قراریاں دور ہوسکتی ہیں وہ سب متکلم اس کے لئے پیدا کئے ہیں اور جس کلام سے اس کی امراض و اعراض دور ہوسکتی ہیں وہ کلام اس کے لئے مہیا کیا ہے یہ ثبوت ضرورت الہام کا کسی اور طرز سے نہیں بلکہ خدا کا ہی قانون قدرت اسے ثابت کرتا ہے کیا یہ سچ نہیں کہ دنیا میں کروڑہا آدمی کہ جو مصیبت میں معصیّت میں غفلت میں گرفتار ہوتے ہیں ہمیشہ وہ دوسرے واعظ اور ناصح سے متاثر ہوا کرتے ہیں اور ہر جگہ اپنا ہی علم اور اپنے ہی خیالات ہرگز کافی نہیں ہوتے اور ساتھ ہی یہ بات بھی ہے کہ جس قدر متکلّم کی ذاتی عظمت اور وقعت سامع کی نظر میں ثابت ہو اُسی قدر اس کا کلام تسلی اور تشفی بخشتا ہے اسی شخص کا وعدہ موجب تسکین خاطر ہوتا ہے کہ جو سامع کی نظر میں صادق الوعد اور ایفاء وعدہ پر قادر بھی ہو اس صورت میں کون اس بدیہی بات میں کلام کرسکتا ہے کہ امور معاد اور ماوراء المحسوسات میں اعلیٰ مرتبہ ایکؔ اَور عیسائی صاحب ۲۵۔ مئی ۱۸۸۲ء کے نور افشان میں یہ سوال کرتے ہیں کہ کون کون سے علامات یا شرائط ہیں جن سے سچے اور جھوٹے نجات دہندہ میں تمیز کی جاسکے