طاقتوں کے تابع ہے جو کوئی علمی طاقتوں میں زیادہ تر ہے اس کی تقریرؔ کی
علم میں کامل اور اپنے عہدوں میں وفادار ہو اور باایں ہمہ ان امور کے پورا کرنے پر قادر بھی ہو جن سے سامع کے دل میں خوف یا امید یا تسلی پیدا ہوتی ہے۔ کیونکہ یہ بات نہایت بدیہی اور ظاہر ہے کہ اکثر اوقات انسان کی یہ حالت ہوتی ہے کہ اگرچہ وہ ایک گناہ کو حقیقت میں ایک گناہ سمجھتا ہے یا ایک امر خلاف استقامت اور صبر کو خلاف استقامت بھی جانتا ہے مگر کچھ ایسا غفلت کا پردہ یا ناگہانی غم کا صدمہ اس کے دل پر آپڑتا ہے کہ وہ پردہ تب ہی اٹھتا ہے کہ جب دوسرا شخص جس کی عظمت اور بزرگی اور صداقت اس کے دل میں متمکن ہے اس کو سمجھاتا ہے اور ترغیب یا ترہیب یا تسلی و تشفی یعنے جیسا کہ موقعہ ہو اس کو دیتا ہے اور اس کا کلام اثر میں کچھ ایسا عجیب ہوتا ہے کہ گو وہ انہیں دلائل کو پیش کرے کہ جو سامع کو معلوم ہیں مگر وہ پاشکستہ کو کمربستہ اور سست کو چست اور ضعیف کو قوی اور مضطرب کو تسلی یافتہ کردیتا ہے اور یہ سب امور ایسے ہیں جن میں دانا انسان آپ اقراری ہوتا ہے کہ وہ اپنے مغلوب النفس یا بے قرار ہونے کی حالتوں میں ان کا محتاج ہے بلکہ جن کی روحیں نہایت لطیف اور طالب حق اور جن کے دل گناہوں کی کدورت اور کثافت سے جلد تر بیزار ہوجاتے ہیں۔ وہ اپنے مغلوب النفس ہونے کی حالتوں میں خود بیمار کی طرح اس علاج کے مستدعی ہوتے ہیں تا کسی مرد خدا کی زبان سے کلمہ ترغیب یا ترہیب یا کلمات تسلی و تشفی سن کر اپنے اندرونی انقباض سے شفا پاویں غرض بلاشبہ انسان کی فطرت میں یہ خاصیت ہے کہ گو وہ کیسا ہی عالم فاضل کیوں نہ ہو مگر حوادث اور جذبات نفسانی کے وقت جیسا دوسروں کی باتوں سے متاثر ہوتا ہے صرف اپنی باتوں سے ہرگز نہیں۔ مثلاً جس پر کوئی حادثہ پڑتا ہے یا کوئی ماتم وقوع میں آجاتا ہے وہ فی نفسہ اس بات سے کچھ بے خبر نہیں ہوتا کہ دنیا خوشی اور امن کی جگہ نہیں نہ ہمیشہ رہنے کا مقام ہے لیکن صدمہ کے وقت اس عاجز انسان پر قلق اور بے قراری غلبہ کرجاتی ہے اور دل ہاتھ سے نکلتا جاتا
زنانہ باتیں سنتے ہیں اب ان لوگوں پر حضرات عیسائیوں کی دیانت اور خداترسی جیسی کہ ہے بخوبی کھل جائے گی۔