ماننا چاہئے کیونکہ جیسا کہ ہم بیان کرچکے ہیں کلام کیؔ عظمت و شوکت متکلم کی علمی ہے کہ روح کیا چیز ہے اور کیونکر داخل ہوتی اور کیونکر نکلتی ہے ظاہراً تو کچھ نکلتا نظر نہیں آتا اور نہ داخل ہوتا نظر آتا ہے اور اگر کسی جاندار کو وقت نزع جان کے کسی شیشہ میں بھی بند کرو تب بھی کوئی چیز نکلتی نظر نہیں آتی اور اگر بند شیشہ کے اندر کسی مادہ میں کیڑے پڑجائیں تو ان روحوں کے داخل ہونے کا بھی کوئی راہ دکھائی نہیں دیتا۔ انڈے میں اس سے بھی زیادہ تعجب ہے کس راہ سے روح پرواز کرکے آتی ہے اور اگر بچہ اندر ہی مر جائے تو کس راہ سے نکل جاتی ہے کیا کوئی عاقل اس معمہ کو صرف اپنی ہی عقل کے زور سے کھول سکتا ہے۔ وہم جتنے چاہو دوڑاؤ مگر مجرد عقل کے ذریعہ سے کوئی واقعی اور یقینی بات تو معلوم نہیں ہوتی پھر جبکہ پہلے ہی قدم میں یہ حال ہے تو پھر یہ ناقص عقل امور معاد میں قطعی طور پر کیا دریافت کرلے گی؟ کیا آپ لوگوں میں اس بات کا سمجھنے والا کوئی نہیں رہا؟ کیا تمہاری اس مصیبت زدہ حالت پر تمہیں آپ ہی رحم نہیں آتا؟ جس حالت میں جیفۂ دنیا کے پیچھے تمہارے پیٹ میں اتنی کھلبلی پڑی ہوئی ہے کہ اس کے حصول کے جوش میں ہزارہا کوس کا سفر خشکی و تری میں کرتے ہو تو کیا عالم معاد تمہاری نظر میں کچھ چیز نہیں۔ افسوس کیوں آپ لوگوں کو سمجھ نہیں آتا کہ روح کی ہریک بے قراری کا چارہ اور نفس امارہ کی ہریک مرض کا علاج صرف اپنے ہی تخیلات اور تصورات سے ممکن نہیں۔ یہ ایک قدرتی قاعدہ ہے کہ جب انسان کسی جذبہ نفسانی یا آفت روحانی میں مبتلاء ہو مثلاً قوت غضبیہ اشتعال میں ہو یا قوت شہویہ شعلہ زن ہو یا کسی مصیبت اور ماتم اورہم اور غم میں گرفتار ہو یا کسی اور تغیر نفسانی یا روحانی سے مقہور ہو تووہ اُن امراض اور اغراض کو کہ جو اس کے نفس اور روح پر غلبہ کررہی ہیںؔ صرف اپنے وعظ اور نصیحت سے دور نہیں کرسکتا بلکہ ان جذبات کے فرو کرنے کے لئے ایک ایسے واعظ کا محتاج ہوتا ہے کہ جو سامع کی نظر میں بارعب اور بزرگ اور اپنی بات میں سچا اور اپنے جو بیہودہ بازاروں اور دیہات میں گشت کرتے پھرتے ہیں شریک کرلیجئے۔ اور خدا کے ساتھ ذرا لڑکر دکھائیے۔ ورنہ جو لوگ ہمارا مردانہ اشتہار پڑھؔ کر آپ لوگوں کی یہ