واحدؔ لاشریک ہونا ضروری ہے یا نہیں؟ اور اگر اس دلیل کو نہیں سوچا تھا تو کاش
ایسے بڑے پیچیدہ نہیں بلکہ ایسے صاف اور واضح ہیں کہ گویا ہماری آنکھ کے سامنے اور نظر کے نیچے ہیں۔ اور جو دقتیں اس نادیدہ عالم کے واقعات میں پیش آتی ہیں اور جس طرح غیر مرئی اور غیب الغیب جہان کے تصور کرنے کے وقت میں حیرتیں رونما ہوتی ہیں اور نظر اور فکر کے آگے ایکؔ دریا ناپیدا کنار دکھلائی دیتا ہے۔ اس جگہ اس کا ہزارم حصہ بھی نہیں۔ تو اس صورت میں اگر ہم صریحاً و عمداً بے راہی اختیار نہ کریں تو بلاشبہ اس اقرار کرنے کے لئے مجبور ہیں کہ ہمیں اس عالم کے حالات اور واقعات ٹھیک ٹھیک معلوم کرنے کے لئے اور ان پر یقین کامل لانے کی غرض سے دنیا کی نسبت صدہا درجہ زیادہ مؤرخوں اور واقعہ نگاروں اور تجربہ کاروں کی حاجت ہے۔ اور جبکہ اس عالم کا مورخ اور واقعہ نگار بجز خدا کی کلام کے کوئی اور نہیں ہوسکتا اور ہمارے یقین کا جہاز بغیر وجود واقعہ نگار کے تباہ ہوا جاتا ہے اور باد صرصر وساوس کی ایمان کی کشتی کو ورطہ ہلاکت میں ڈالتی جاتی ہے تو اس صورت میں کون عاقل ہے کہ جو صرف عقل ناقص کی رہبری پر بھروسہ کرکے ایسے کلام کی ضرورت سے منہ پھیرے جس پر اس کی جان کی سلامتی موقوف ہے اور جس کے مضامین صرف قیاسی اٹکلوں میں محدود نہیں بلکہ وہ عقلی دلائل کے علاوہ بہ حیثیت ایک مورخ صادق عالم ثانی کے واقعات صحیحہ کی خبر بھی دیتا ہے اور چشم دید ماجرا بیان کرتا ہے۔
از وحی خدا صبح صداقت بِدمیدہ
چشمے کہ ندید آںُ صحفِ پاک چہ دیدہ
کاخ دل ما شد زہماں نافہ معطّر
وآں یار بیامد کہ ز ما بود رمیدہ
آں دیدہ کہ نورے نگرفت ست زفرقاں
حقا کہ ہمہ عمر ز کوری نہ رہیدہ
آں دل کہ جز ازوے گل و گلزار خدا جست
سو گند تواں خورد کہ بویش نشمیدہ
با خور ندہم نسبت آں نور کہ بینم
صد خور کہ بہ پیرامنِ او حلقہ کشیدہ
بے دولت و بدبخت کسانیکہ ازاں نور
سر تافتہ از نخوت و پیوند بریدہ
اسؔ سے آپ کی بڑی ناموری ہوجاوے گی۔ اور جس میدان کے فتح کرنے سے حضرت مسیح قاصر رہے اور اپنی تعلیم ناقص کا آپ اقرار کرکے اس جہان سے سدھار گئے۔ وہ میدان