کرنے کے وقت اول یہی سوچتے کہ کیا خدا کا اپنی ذات اور صفات اور جمیع افعال میں
وجود کو چاہتا ہے۔ بلکہ کسی طور سے اس کے واقعہ فی الخارج ہونے کا بھی پتہ مل جائے تا عجوزہ عقل صرف خیالات کے ورطہ میں ڈوبی نہ رہے اور جس امر کا موجود ہونا خیالی طور پر اس نے فرض کرلیا ہے اس امر کے وجود پر بطور واقعی مطلع بھی ہوجائے۔ اور جبکہ استکمال یقین کا علم واقعہ پر موقوف ہوا اور ظاہر ہے کہ واقعات خارجیہ کی خبر دینا عقل کا کام اور منصب نہیں بلکہ یہ مؤرخوں اور واقعہ نگاروں اور تجربہ کاروں کا منصب ہے جنہوں نے بچشم خود ان واقعات کو دیکھا ہو یا ان حالات کو کسی دیکھنے والے کی زبان سے سنا ہو۔ پس اس صورت میں عقل ناقص انسان کے لئے واقعہ نگاروں اور مؤرخوں اور آزمودہ کاروں کی ضرورت پڑی۔ یہی و جہ ہے کہ گو کسی امر میں لاکھ موشگافی کرو۔ مگر جو کچھ وقعت اور شان اس کی تجربہ یا تاریخ کے شمول سے کھلتی ہے۔ وہ بات مجرد قیاس سے ہرگز حاصل نہیں ہوسکتی اور جس جگہ کسی شہادت رویت کی حاجت پڑتی ہے۔ اس جگہ قیاسی اٹکلیں کام نہیں دے سکتیں اور فقط قیاسی تیر چلانے والااور صرف مونہہ سے باتیں بنانے والا ایک مؤرخ واقف حالات یا صاحب تجربہ اور آزمائش کا قائم مقام نہیں ہوسکتا۔ اور اگر ہوسکتا تو پھر مؤرخوں اور واقعہ نگاروں اور تجربہ کاروں کی کچھ ضرورت نہ رہتی اور لوگ صرف اپنے قیاسوں سے دنیا کے متفرق حالات جن کا جاننا تاریخ اور تجربہ اور واقعہ دانی پر موقوف ہے معلوم کرلیتے اور سارا دھندا نظام عالم کا فقط قیاسی اٹکلوں سے چلا لیتے ۔مؤرخوں اور واقعہ نگاروں اور اہل تجربہ لوگوں کی تب ہی تو حاجت پڑی کہ جب اکیلی عقل اور مجرد قیاس سے کام چل نہ سکا اور صرف قیاس کی کشتی میں بیٹھنے سے دنیا کی سب مہمات ڈوبتی نظر آئیں اور فقط عقل کے چرخ پر چڑھنے سے سارا کام اس عالم کا برباد ہوتا دکھائی دیا۔ حالانکہ دنیا کے معاملات کچھ
کام چھوڑ چھاڑ کر یہی کام اختیار کریں اور قرآن شریف کے علوم الٰہیہ اور دقائقِ عقلیہ اور تاثیراتِ باطنیہ کا اپنی کتاب سے مقابلہ دکھلا کر روپیہ انعام کا وصول کریں۔