اس دوسری دلیلؔ کو ہی سوچا ہوتا کہ جس ذات کو علمی اور قدرتی طاقتوں میں سب سے زیادہ
ہاں سچ بات ہے کہ عقل بھی بے سود اور بے فائدہ نہیں اور ہم نے کب کہا ہے کہ بے فائدہ ہے۔ مگر اس بدیہی صداقت کے ماننے سے ہم کس طرف بھاگ سکتے ہیں کہ مجرد عقل اور قیاس کے ذریعہ سے ہمیں وہ کامل یقین کا سرمایہ حاصل نہیں ہوسکتا کہ جو عقل اور الہام کے اشتمال سے حاصل ہوتا ہے۔ اور نہ لغزشوں اور غلطیوں اور خطاؤں اور گمراہیوں اور خود پسندیوں اور خود بینیوں سے بچ سکتے ہیں اور نہ ہمارے خود تراشیدہ خیالات خدا کے ُ پرزور اورُ پرجلال اورُ پررُعب حکم کی طرح جذبات نفسانی پر غالب آسکتے ہیں اور نہ ہمارے طبع زاد تصورات اور خشک تخیلات اور بے اصل توہمات ہم کو وہ سرور اور خوشی اور تسلی اور تشفی پہنچا سکتے ہیں کہ جو محبوب حقیقی کا دلآویز کلام پہنچاتا ہے۔ تو پھر کیا ہم ایک اکیلی عقل کے پیرو ہوکر ان تمام نقصانوں اور زیانوں اور بدبختیوں اور بدنصیبیوں کوؔ اپنے لئے قبول کرلیں اور ہزارہا بلاؤں کا اپنے نفس پر دروازہ کھول دیں۔ عاقل انسان کسی طرح اس مہمل بات کو باور نہیں کرسکتا کہ جس نے کامل معرفت کی پیاس لگا دی ہے۔ اس نے پوری معرفت کا لبالب پیالہ دینے سے دریغ کیا ہے اور جس نے آپ ہی دلوں کو اپنی طرف کھینچا ہے۔ اس نے حقیقی عرفان کے دروازے بند کررکھے ہیں۔ اور خداشناسی کے تمام مراتب کو صرف فرضی ضرورت پر خیال دوڑانے میں محدود کردیا ہے۔ کیا خدا نے انسان کو ایسا ہی بدبخت اور بے نصیب پیدا کیا ہے کہ جس کامل تسلی کو خدا شناسی کی راہ میں اس کی روح چاہتی ہے اور دل تڑپتا ہے۔ اور جس کے حصول کا جوش اس کی جان و جگر میں بھرا ہوا ہے۔ اس کے حصول سے اس دنیا میں اس کو بکلی یاس اور ناامیدی ہے۔ کیا تم ہزارہا لوگوں میں سے کوئی بھی ایسی روح نہیں کہ اس بات کو سمجھے کہ جو معرفت کے دروازے صرف خدا کے کھولنے سے کھلتے ہیں وہ انسانی قوتوں سے کھل نہیں سکتے۔ اور جو خدا کا آپ کہنا ہے
گویا آپ کے ہاتھ سے فتح ہوجائے گا۔ گویا ایک صورتؔ سے آپ عیسائیوں کی نظر میں مسیح سے بہتر ٹھہر جاویں گے۔ کہ جس کتاب کو وہ مدت العمر ناقص سمجھتے رہے۔ آپ نے