سمجھ آنے سے رہ گئی۔ اگر ان میں ذرا عقلِ خداداد ہوتی تو اسؔ بیہودہ اعتراض عقل کو الہام الٰہی کی حاجت ہے۔ اور بغیر اس رفیق کے عقل کا کام علم دین میں چل نہیں سکتا جیسے دوسرے علوم میں بغیر دوسرے رفیقوں کے عقل بے دست وپا اور ناقص اور ناتمام ہے۔ غرض عقل فی حد ذاتہ مستقل طور پر کسی کام کو یقینی طور پر انجام نہیں دے سکتی جب تک کوئی دوسرا رفیق اس کے ساتھ شامل نہ ہو۔ اور بغیر شمول رفیق کے ممکن نہیں کہ خطا اور غلطی سے محفوظ اور معصوم رہ سکے۔ بالخصوص علم الٰہی میں جس کے تمام اَبحاث کی کنہ اور حقیقت اس عالم کی وراء الوراء ہے اور جس کا کوئی نمونہ اس دنیا میں موجود نہیں۔ ان امور میں عقل ناقص انسانی غلطی سے تو کیا بچے گی۔ کمال معرفت کے مرتبے تک بھی نہیں پہنچا سکتی۔ اور غایت کار جو بذریعہ عقل دریافت کیا جاتا ہے۔ اس کا مضمون صرف اسی قدر ہوتا ہے کہ قیاس کنندہ اپنے گمان میں گو وہ گمان واقعی ہو یا غیر واقعی۔ کسی امر کی ضرورت قرار دے لیتا ہے۔ مگر یہ ثابت نہیں کرسکتا کہ وہ امر جو ضروری قرار دیا گیا ہے۔ خارجی طور پر بھی متحقق الوجود ہے۔ اور اسی جہت سے علم اس کا ایک ایسی فرضی ضرورت پر مبنی ہونے کی و جہ سے جس کا خارجی طور پر اس کو کوئی پتہ نہیں ملا۔ ایک مجرد خیال بے بنیاد تصور ہوتا ہے اور یقین کامل کے درجہ سے اس کو بکلی یاس اور بے نصیبی حاصل ہوتی ہے اور ہم بارہا لکھ چکے ہیں کہ ہرگز ممکن ہی نہیں کہ محض فرضی ضرورتوں اور مجرد خیالات کی تودہ بندی سے یقین کامل کا مرتبہ عقل کو حاصل ہوجائے۔ بلکہ اس کامل یقین کے حاصل کرنے کے لئے تمام معاملات دنیا اور دین کے ایک ہی اصول محکم پر چلتے ہیں یعنے ہر یک امر خواہ دینی ہو خواہ دنیویؔ اسی حالت میں کامل یقین کے مرتبہ تک پہنچ سکتا ہے کہ جب علم حقائق اشیاء کا صرف قیاسی وجوہ میں محدود نہ رہے۔ اور وجہ ثبوت وجود کسی چیز کی فقط اتنی ہی اپنے ہاتھ میں نہ ہو کہ قیاس اس کے پایا جاتا ہے کہ آپ دنیا کی تکالیف میں سخت مبتلا ہیں اور آپ کو روپیہ کی اشد ضرورت ہے تو پھر اس صورتؔ میں دنیا حاصل کرنے کی اس سے بہتر اور کیا تدبیر ہے کہ آپ سب