رونا آتا ہے جن کو ایسی مستحکم اوربدیہی صداقتؔ کہ جو دلائل قاطعہ سے ثابت ہے ہریک انسان کا نفس ناطقہ بمقتضائے اپنی فطرت کے چاہتا ہے یہی ہے کہ عقلی دلائل سے اس حقیقت کو کھولا جائے۔ جیسے مثلاً فعل سرقہ کے قبیح ہونے کے لئے حقیقی وجہ جس پر روحانی اطمینان موقوف ہے یہی ہے کہ وہ ایک ظلم اور تعدی ہے کہ عندالعقل نامناسب اور ناجائز ہے۔ یہ وجہ نہیں ہے کہ جو کسی الہامی کتاب نے اس کا مرتکب ہونا گناہ لکھا ہے۔ یا مثلاً سم الفار جو ایک زہر ہے۔ اس کے کھانے کی ممانعت حقیقی طور پر اسی بنا پر ہوسکتی ہے کہ وہ قاتل اور مہلک ہے۔ نہ اس بنا پر کہ خدا کے کلام میں اس کے اکل و شرب سے نہی وارد ہے۔ پس ثابت ہے کہ واقعی اور حقیقی سچائی کی رہنما صرف عقل ہے نہ الہام۔ لیکن ان حضرات کو ابھی تک یہ خبر بھی نہیں کہ اس وہم کا تو اسی وقت قلع قمع ہوگیا کہ جب مضبوط اور قوی دلائل سے ان کی عقل کا خام اور ناتمام ہونا بہ پایہ ثبوت پہنچ گیا۔ کیا یہ عقلمندی ہے کہ جس وسوسہ کو دلائل قویہ کے پرزور لشکر نے پیس ڈالا ہے۔ اسی مردہ خیال کو بے شرم آدمی کی طرح بار بار پیش کیا جائے۔ افسوس افسوس!! ارے بابا۔ کیا تم بارہا سن نہیں چکے کہ گو حقائقؔ اشیاء عقلی دلائل سے کسی قدر منکشف ہوتے ہیں۔ مگر ایسا تو نہیں کہ تمام مراتب یقین کا استکمال عقل ہی پر موقوف ہے۔ آپ تو اپنی ہی مثال پیش کردہ سے مُلزم ہوسکتے ہیں۔ کیونکہ سم الفار کا قاتل اور مہلک ہونا مجرد عقل کے ذریعہ سے بہ پایہ ثبوت نہیں پہنچا۔ بلکہ یقینی طور پر یہ خاصیت اس کی تب معلوم ہوئی جب عقل نے تجربہ صحیحہ کو اپنا رفیق بناکر سم الفار کی خاصیت مخفیہ کو مشاہدہ کرلیا ہے۔ سو ہم بھی آپ کو یہی سمجھاتے ہیں کہ جیسی سم الفار کی خاصیت یقینی طور پر دریافت کرنے کے لئے عقل کو ایک دوسرے رفیق کی حاجت ہوئی یعنے تجربہ صحیحہ کی حاجت ایسا ہی الٰہیات اور عالم معاد کے حقائق علیٰ وجہ الیقین دریافت کرنے کے لئے براہین اور برکات فرقانیہ کا مقابلہ کرکے کہ جو براہین احمدیہ میںؔ اسی غرض کے لئے مندرج ہیں اشتہار کا کل روپیہ لے سکتے ہیں۔ بالخصوص جب آپ کی تقریر کے ضمن میں یہ بھی