تو پھر کیا وجہ کہ اسؔ کی مثل بنانے پر ہم قادر نہ ہوسکیں۔ ایسے لوگوں کی حالت پر
حاصل ہوجائے اور اپنے مولیٰ کریم کو اسی دنیا میں دیکھ لے۔ سو جیسا کہ ہم اسی حاشیہ میں ثابت کرچکے ہیں یہ حقیقی آزادی دنیا میں کامل اور خدا دوست مسلمانوں کو بذریعہ قرآن شریف حاصل ہے۔ اور بجز ان کے کسی برہمو وغیرہ کو حاصل نہیں۔ ہاں ایک وجہ سے برہمو سماج والوں کا نام بھی آزاد اور بے قید ہوسکتا ہے۔ اور اسی خیال سے ہم نے بھی بعض بعض مقامات اس کتاب میں ان کا نام آزاد مشرب رکھا ہے اور وہ یہ ہے کہ جیسے بعض رند و لوند شراب پی کر یا ایک پیالہ بھنگ کا چڑھاؔ کر یا چرس وغیرہ منشی چیزوں کا دم لگا کر ہریک قسم کی شرم و حیا و حفظ مراتب و پابندی سے بلکہ خدا سے بھی آزاد بن بیٹھے ہیں اور جس قسم کا دل میں بخار اٹھتا ہے بول اٹھتے ہیں اور جو چاہتے ہیں بک پڑتے ہیں۔ انہیں کے مطابق بعض برہمو صاحبوں نے ہم پر ثابت کردیا ہے کہ حقیقت میں وہ ویسے ہی آزاد ہیں اور درحقیقت انہوں نے بے قید اور آزاد ہوکر اس دنیا کا آرام تو خاطر خواہ حاصل کرلیا کہ سب حلال و حرام اپنی زبان پر ہی آگیا۔ اور دینی احکام کی کنجی اپنے ہی ہاتھ میں ہوگئی۔ اب نفس امارہ کے مشورہ سے جس دروازہ کو چاہیں کھول دیں اور جس کو چاہیں بند کردیں۔ آپ ہی کرم دھرم کے بانی جو ہوئے۔ لیکن ان آزادیوں کا مزہ اس دن چکھیں گے جس دن خدائے تعالیٰ کے حضور میں اپنی بے ایمانیوں کا جواب دینا پڑے گا۔
اسی وہم کا ضمیمہ برہمو سماج والوں کا ایک اور مقولہ ہے کہ گویا انہوں نے اپنے اسی قامت ناساز کو ایک دوسرے لباس میں ظاہر کیا ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ الہام کا تابع ہونا ایک حرکت خلاف وضع استقامت اور مبائن طریق فطرت ہے۔ کیونکہ ہریک امر کی حقیقت پر مطلع ہونے کے لئے صاف اور سیدھا راستہ کہ جس کو
ہیںؔ کہ قرآن شریف کا مقابلہ کرسکتے ہیں بلکہ اس کا ماخذ بتلا سکتے ہیں تو پھر آپ کے لئے بات ہی آسان ہے اور آپ بڑی آسانی سے ان تمام حقائق اور دقائق اور