میںؔ سے ہے اور انہیں کلمات اور الفاظ سے مرکب ہے جن سے ہمارا کلام مرکب ہے خود تراشیدہ باتوں سے کن ثمرات کی توقع ہے۔ کیوں سچے طالبوں کی طرح اس خدا کو نہیں ڈھونڈتے کہ جو قادر توانا اور جیتا جاگتا ہے۔ اور اپنے وجود پر آپ اطلاع دینے کیؔ قُدرت رکھتا ہے۔ اور اِنِّی اَنَا اللّٰہ کی آواز سےُ مردوں کو ایک دم میں زندہ کرسکتا ہے۔ جب یہ لوگ خود جانتے ہیں کہ عقل کی روشنی دود آمیز ہے تو پھر کامل روشنی کے کیوں خواہاں نہیں ہوتے۔ عجب احمق ہیں کہ اپنے مریض ہونے کے تو قائل ہیں پر علاج کا کچھ فکر نہیں۔ ہائے افسوس کیوں ان کی آنکھیں نہیں کھلتیں تا وہ حق الامر کو دیکھ لیں۔ کیوں ان کے کانوں پر سے پردہ نہیں اٹھتا تا وہ حقانی آواز کو سن لیں۔ کیوں ان کے دل ایسے کجرو اور ان کی سمجھیں ایسی الٹی ہوگئیں کہ جو اعتراض حقیقت میں انہیں پر وارد ہوتا تھا وہ الہام حقیقی کے تابعین پر کرنے لگے۔ کیا ابھی تک ہم نے ان کو یہ ثابت کرکے نہیں دکھلایا کہ وہ معرفت الٰہی میں نہایت ناقص اور خطرہ کی حالت میں ہیں۔ کیا ہم نے ابھی تک ان پر یہ ظاہر نہیں کیا کہ معرفت تامہ و کاملہ صرف قرآن شریف کے ذریعہ سے حاصل ہوسکتی ہے وبس۔ پھر جب کہ ہریک طور سے انہیں کا جھوٹا اور غلطی پر ہونا ثابت ہوچکا ہے تو پھر یہ کیسی ایمانداری اور دیانت شعاری ہے کہ اپنے گھر کے ماتم سے بے خبر رہ کر اہل اسلام کو بیمار قرار دیتے ہیں اور خبث اور شر کی باتیں مونہہ پر لاتے ہیں جن سے یقیناً سمجھا جاتا ہے کہ ان کو راست روی سے کچھ بھی غرض اور تعلق نہیں۔ اور یہ باتیں ان کی باتیں نہیں ہیں بلکہ حسد اور تعصب کا بدبودار خوان ہے۔ اسی وہم کا ضمیمہ برہمو سماج والوں کا ایک اور وہم بھی ہے کہ الہام ایک قید ہے اور ہم ہریک قید سے آزاد ہیں یعنے ہم اچھے ہیں کیونکہ آزاد قیدی سے اچھا ہوتا ہے۔ ہم اس نکتہ چینی کو مانتے ہیں اور اقرار کرتے ہیں کہ بلاشبہ الہام ایک قید ہے مگر ایسی قید ہے کہ جس کے بغیر سچی آزادی حاصل ہونا ممکن نہیں۔ کیونکہ سچی آزادی وہ ہے کہ انسان کو ہریک نوع کی غلطی اور شکوک اور شبہات سے نجات ہوکر مرتبہ یقین کامل کا حاصل نہیں تھا۔ تو پھر یہ جوہر کس دن کے لئے چھپا رکھا ہے۔ جب آپ ایسے ہی لائق