اعتراض بنا رکھا ہے کہ جس حالت میں خدا کا کلام بھی ہمارے کلام کی جنس
ہے۔ تو اس نے جواب دیا کہ میں نے کھائی تو کبھی نہیں پر میرے دادا جی بات کیا کرتے تھے کہ ایک دفعہ ہم نے کسی کو کھاتے دیکھا ہے۔
غرض جب تک کوئی سامعین کی نظر میں کسی واقعہ پر بکلی محیط نہ ہو۔ تب تک بجائے اس کے کہ اس کا کلام دلوں پر کچھ اثر کرے خواہ نخواہ ٹھٹھا اور ہنسی کرانے کا موجب ٹھہرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مجرد عقلمندوں کی خشک تقریروں نے کسی کو عالم آخرت کی طرف یقینی طور پر متوجہ نہیں کیا۔ اور لوگ یہی سمجھتے رہے کہ جیسا یہ لوگ صرف اٹکل سے باتیں کرتے ہیں۔ علیٰ ہذا القیاس ہم بھی ان کی رائے کے مخالف اٹکلیں دوڑا سکتے ہیں۔ نہ انہوں نے موقعہ پر جاکر اصل حقیقت کو دیکھا نہ ہم نے۔ اسی باعث سے جب ایک طرف بعض عقلمندوں نے خدا کی ہستی پر رائے ظاہر کرنی شروع کی تو دوسرے عقلمندوں نے ان کے مخالف ہوکر دہریہ مذہب کی تائید میں کتابیں تصنیف کیں۔ اور سچ تو یہ ہے کہ ان عاقلوں کا فرقہ کہ جو خدا کی ہستی کے کسی قدر قائل تھے وہ بھی دہریہ پن کی رگ سے کبھی خالی نہیں ہوا اور نہ اب خالی ہے۔ انہیں برہمو لوگوں کو دیکھو۔ کب وہ خدا کو کامل صفتوں سے متصف سمجھتے ہیں۔ کب ان کو اقرار ہے کہ خدا گونگا نہیں بلکہ اس میں حقیقی طور پر صفت تکلم بھی ہے جیسی ایک جیتے جاگتے میں ہونی چاہئے۔ کب وہ اس کو حقانی طور پر پورا پورا مدبّر اور رزّاق سمجھتے ہیں۔ کب ان کو اس بات پر ایمان ہے کہ حقیقت میں خدا حی و قیوم ہے اور اپنی آوازیں صادق دلوں تک پہنچا سکتا ہے۔ بلکہ وہ تو اس کے وجود کو ایک موہومی اور مردہ سا خیال کرتے ہیں کہ جس کو عقل انسانی صرف اپنے ہی تصورات سے ایک فرضی طور پر ٹھہرا لیتی ہے۔ اور اس طرف سے زندوں کی طرح کبھی آواز نہیں آتی۔ گویا وہ خدا نہیں ایک بت ہی ہے کہ جو کسی گوشہ میں پڑا ہے۔ میں متعجب ہوں کہ ایسے کچے اور ضعیف خیالات سے کیونکر یہ لوگ خوش ہوئے بیٹھے ہیں۔ اور ایسی
رہنے کا آپ کی ہمت سے دھویا جائے۔ اورؔ ان سب کے علاوہ دس ہزار روپیہ ہاتھ لگے دست کش ہیں۔ اگر آپ کی ذات شریف میں ایسا ہنر حاصل ہے کہ جو حضرت مسیح کو بھی