لاکر غور کرنی چاہئے جنہوں نے کلام الٰہی کی بے نظیری کی عدم تسلیم میںؔ صرف یہ
کرتی ہے وہ مجرد عقل سے ہرگز متوقع نہیں اور اس کا ثبوت روزمرہ تجربہ سے ظاہر ہے۔ مثلاً ایک شخص ایک دور دراز ولایت کا سیر کرکے آتا ہے۔ تو جب اپنے وطن میں پہنچتا ہے تو ہریک خویش و بیگانہ اس ولایت کی خبریں اس سے دریافت کرتا ہے اور اس کی چشم دید خبریں بشرطیکہ وہ دروغگوئی کی عادت سے متہم نہ ہو۔ دلوں پر بہت اثر کرتی ہیں اور بغیرکسی تردّد اور شک کے فی الواقعہ راست اور صحیح سمجھی جاتی ہیں بالخصوص جب ایسا مخبر ہوکہ لوگوں کی نظر میں ایک بزرگوار اور صالح آدمی ہو۔ اس قدر تاثیر اس کی کلام میں کیوں ہوتی ہے۔ اس لئے ہوتی ہے کہ اول اس کو ایک شریف اور راست باز تسلیم کرکے پھر اس کی نسبت یہ یقین کیا گیا ہے کہ وہ جو جو ان ملکوں کے واقعات بیان کرتا ہے۔ ان کو اس نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ اور جو جو خبریں بتلاتا ہے وہ سب اس کا چشم دید ماجرا ہے۔ پس اسی باعث سے اس کی باتوں کا دلوں پر سخت اثر واقعہ ہوتا ہے اور اس کے بیانات طبیعتوں میں ایسے جم جاتے ہیں کہ گویا ان واقعات کی تصویر نظر کے سامنے آموجود ہوتی ہے۔ بلکہ بسا اوقات جب وہ اپنے سفر کی ایک رقت آمیز حکایت سناتا ہے یا کسی قوم کا دردانگیز قصہ بیان کرتا ہے تو سنتے ہی وہ بات سامعین کے دل کو ایسا پکڑلیتی ہے کہ ان کی آنکھوں میں آنسو بھر آتے ہیں اور ان کی ایک ایسی حالت ہوجاتی ہے کہ گویا وہ موقعہ پر موجود ہیں اور اس واقعہ کو بچشم خود دیکھ رہے ہیں۔
لیکن جو شخص اپنے گھر کی چار دیوار سے کبھی باہر نہیں نکلا نہ اس ملک میں کبھی گیا اور نہ دیکھنے والوں سے کبھی اس کا حال سنا اگر وہ اٹھ کر صرف اپنی اٹکل سے اس ملک کی خبریں بیان کرنے لگے تو اس کی بک بک سے خاک بھی تاثیر نہیں ہوتی بلکہ لوگ اسے کہتے ہیں کہ کیا تو پاگل اور دیوانہ ہے کہ ایسی باتیں بیان کرنے لگا کہ جو تیرے معائنہ اور تجربہ سے باہر ہیں اور تیرے ناقص علم سے بلند تر ہیں اور اس پر ایسا ہی کہتے ہیں کہ جیسا ایکؔ بزرگ نے کسی احمق کا قصہ لکھا ہے کہ وہ ایک جگہ گیہوں کی روٹی کی بہت سی تعریفیں کررہا تھا کہ وہ بہت ہی مزہ دار ہوتی ہے۔ اور جب پوچھا گیا کہ کیا تو نے بھی کبھی کھائی
یہودؔ نصاریٰ یا مجوس سے بطور سرقہ اخذ کئے گئے ہیں تو پھر کیوں آپ ایسے کام کے دکھانے سے جس کے کرنے سے تمام عیسائیوں کی عزت بحال رہے اور ان کا قدیمی داغ عاجز اور لاجواب