مشروط قرار دیتے ہیں۔ پس اب ان نادانوں کو ذراؔ حیا اور شرم کو کام میں
لطائف حکمت و دقائق معرفت کو اس کامل کتاب نے بلاتفاوت و بلا نقصان و بلا سہو و بلا نسیان خدائی کی قدرت اور قوت سے اور ربّانیت کی طاقت اور حکومت سے ہمارے سامنے لارکھا ہے۔ تاہم اس پانی کو پی کر بچ جائیں اور موت کے گڑھے میں نہ پڑیں اور پھر کمال یہ کہ اس جامعیت سے اکٹھا کیا ہے کہ کوئی دقیقہ دقائق صداقت سے اور کوئی لطیفہ لطائفِ حکمت سے باہر نہیں رہا اور نہ کوئی ایسا امر داخل ہوا کہ جو کسی صداقت کے مبائن اور منافی ہو۔ چنانچہ ہم نے منکرین کو ملزم اور رسوا کرنے کے لئے جابجا بصراحت لکھ دیا ہے اور بآواز بلند سنا دیا ہے کہ اگر کوئی برہمو قرآن شریف کے کسی بیان کو خلاف صداقت سمجھتا ہے یا کسی صداقت سے خالی خیال کرتا ہے تو اپنا اعتراض پیش کرے۔ ہم خدا کے فضل اور کرم سے اس کے وہم کو ایسا دور کردیں گے کہ جس بات کو وہ اپنے خیال باطل میں ایک عیب سمجھتا تھا اس کا ہنر ہونا اس پر آشکارا ہوجائے گا۔
اس جگہ یہ بھی یاد رہے کہ مجرد عقلی خیالوں میں صرف اتنا ہی نقص نہیں کہ وہ مراتب یقینیہ سے قاصر ہیں اور دقائق الٰہیات کے مجموعہ پر قابض نہیں ہوسکتے۔ بلکہ ایک یہ بھی نقص ہے کہ مجرد عقلی تقریریں دلوں پر اثر کرنے میں بھی بغایت درجہ کمزور و بے جان ہیں۔ اور کمزور ہونے کی وجہ یہ ہے کہ کسی کلام کا دل پر کارگر ہونا اس بات پر موقوف ہے کہ اس کلام کی سچائی سامع کے ذہن میں ایسی متحقق ہو کہ جس میں ایک ذرا شک کرنے کی گنجائش نہ ہو۔ اور دلی یقین سے یہ بات دل میں بیٹھ جائے کہ جس واقعہ کی مجھ کو خبرؔ دی گئی ہے اس میں غلطی کا امکان نہیں۔ اور ابھی ظاہر ہوچکا ہے کہ مجرد عقل یقین کامل تک پہنچا ہی نہیں سکتی۔ پس اس صورت میں یہ بات بدیہی ہے کہ وہ آثار کہ یقین کامل پر مترتب ہوتے ہیں اور وہ تاثیریں کہ جو یقینی کلام دلوں پر
غرض یہ ہے کہ تاؔ آپ بعض سادہ لوح عیسائیوں کو خوش کردیں۔ ورنہ دانشمند عیسائی آپ کی اس بے مغز بات پر ہنسے گا کہ جس حالت میں آپ کو خوب معلوم ہے کہ قرآن کہاں سے اکٹھا کیا گیا ہے اور اس کے تمام حقائق دقائق کس کس کتاب