واجب ٹھہراتے ہیں۔ اور اس کی الوہیّتؔ کے تحقق کو انہیں خواص کے تحقق سے
باہر ہو کہ جس میں امکان غلطی کا قاعدہ کلیہ کررکھا ہے۔ سو الحمد للّٰہ والمِنّۃ ایسی کتاب کا خدا کی طرف سے نازل ہونا براہین قطعیہ سے ہم پر ثابت ہوگیا ہے اور ہم بذریعہ کتاب ممدوح کے اس ہلاکت کے ورطہ سے باہر نکل آئے ہیں جس میں برہمو لوگ مردہ کی طرح پڑے ہوئے ہیں۔ اور وہ کتاب وہی عالی شان اور مقدس کتاب ہے جس کا نام فرقان ہے۔ جو حق اور باطل میں فرق بین دکھلاتی ہے اور ہرایک قسم کی غلطیوں سے مبرا ہے۔ جس کی پہلی صفت یہی ہے۔ 3۔ ۱ اسی نے ہم پر ظاہر کیا ہے کہ خدا حق کے طالبوں کو مراتب یقینیہ سے محروم رکھ کر ہلاک کرنا نہیں چاہتا۔ بلکہ اس رحیم و کریم نے ایسا اپنے ضعیف اور ناقص بندوں پر احسان کیا ہے کہ جس کام کو عقل ناقص انسان کی نہیں کرسکتی تھی اس نے وہ کام آپ کر دکھایا ہے۔ اور جس درخت بلند تک بشر کا کوتہ ہاتھ نہیں پہنچتا تھا اس کے پھلوں کو اس نے اپنے ہاتھ سے نیچے گرایا ہے اور حق کے طالبوں کو اور سچائی کے بھوکے اور پیاسوں کو یقین کامل اور قطعی کا سامان عطا کردیا ہے۔ اور جو دینیؔ صداقتوں کے ہزارہا دقائق ذرّات کی طرح روحانی آسمان کی دور دراز فضاؤں میں منتشر تھے اور جو زندگی کا پانی شبنم کی طرح متفرق طور پر انسانی سرشت کے ظلمات میں اور اس کی عمیق درعمیق استعدادات میں مخفی اور محتجب تھا۔ جس کو بمنصۂ ظہور لانا اور ناپیدا کنار فضاؤں سے ایک جگہ اکٹھا کرنا انسانی عقل کی طاقتوں سے باہر تھا۔ اور بشر کی ضعیف قوتوں کے پاس کوئی ایسا باریک اور غیب نما آلہ نہ تھا کہ جس کے ذریعہ سے انسان ان اَدَق اور پوشیدہ ذرّات حقیقت کو کہ جن کو باستیفاء دیکھنے کے لئے بصارت وفا نہیں کرتی تھی۔ اور جمع کرنے کے لئے عمر فرصت نہیں دیتی تھی۔ آسانی سے دریافت اور حاصل کرلیتا۔ ان سب
کی تصدیق کررہے ہیں لیکن قرآن شریف ایسا نہیں جس پر یہ الزامات عاید ہو سکیںؔ یا کسی بداندیش کا منصوبہ پیش جاسکے۔ آپ نے برا کیا کہ آفتاب پر تھوکنے کا ارادہ کیا۔ وہ تو حضرت الٹ کر آپ ہی کے مونہہ پر پڑے گا۔ متکلم صاحب شاید آپ کی بے اصل لاف و گذاف سے