بھی خدا کا اپنی ذات اورؔ جمیع صفات اور افعال میں واحد لاشریک ہونا ضروری اور
تو علانیہ یہ رائے ظاہر کردی ہے کہ گو کوئی کتاب ایسی ہو کہ جو سراسر خدا کی ہستی کی قائل اور اس کو واحد لاشریک اور قادر اور خالق اور عالم الغیب اور حکیم اور رحمان اور دوسری صفات کاملہ سے یاد کرتی ہو۔ اور حدوث اور فنا اور تغیر اور تبدل اور شرکتِ غیر وغیرہ امور ناقصہ سے پاک اور برتر سمجھتی ہو۔ مگر تب بھی وہ کتاب ان کے نزدیک غلطی کے امکان سے خالی نہیں اور اس لائق نہیں کہ جو اس پر یقین کیا جائے۔ اور اسی وجہ سے یہ لوگ قرآن شریف سے بھی انکار کررہے ہیں۔ اب دیکھو کہ ان کے دین و ایمان کا انہیں کے اقرار سے یہ خلاصہ نکلا کہ ان کے نزدیک خدا کی ہستی اور ؔ اس کی وحدانیّت اور قادریت بھی امکان غلطی سے خالی نہیں!! غرض جب کہ انہوں نے آپ ہی اقرار کردیا کہ ان کے پاس کوئی ایسی کتاب نہیں جس کی صحت ان کے نزدیک یقینی ہو۔ تو اس سے صاف کھل گیا کہ ان کے مذہب کی بنیاد سراسر ظنیات پر ہے اور ایمان ان کا مراتب یقینیہ سے بکلی دور و مہجور ہے۔ پس یہ وہی بات ہے جس کو ہم بارہا اسی حاشیہ میں لکھ چکے ہیں کہ مجرد عقلی تقریروں سے علم الٰہیات میں کامل تسلی اور تشفی ممکن نہیں۔ اس صورت میں ہمارا اور برہمو لوگوں کا اس بات پر تو اتفاق ہوچکا کہ مجرد عقل کی رہبری سے کوئی انسان یقین کامل تک نہیں پہنچ سکتا۔ اور مابہ النزاع فقط یہی امر تھا کہ کیا خدا نے برہمو لوگوں کی رائے کے موافق انسان کو اسی لئے پیدا کیا ہے کہ وہ باوجود جوش طلب یقین کامل اور حق محض کے جو اس کی فطرت میں ڈالا گیا ہے پھر بھی اپنی اس فطرتی مراد سے ناکام اور بے نصیب رہے۔ اور صرف ایسے خیالوں تک اس کا علم محدود رہے کہ جو امکان غلطی سے خالی نہیں یا خدا نے اس کی معرفت کامل اور پوری پوری کامیابی کے لئے کوئی سبیل بھی مقرر کررکھا ہے۔ اور کوئی ایسی کتاب بھی عطا فرمائی ہے کہ جو اس اصول متذکرہ بالا سے
میں پائی جاتی ہیں۔ چنانچہ آپ بھی توؔ اقرار کرتے ہیں کہ ہندوؤں کے اصول سے انجیلی تعلیم کو بہت کچھ مشابہت ہے۔ پس اس اقرار سے ہی آپ اپنے مونہہ سے ہندوؤں کے دعویٰ