سمجھایا جو سارے گناہوں سے پاک و صاف کرتا ہے اور اس راستبازی کی بابت سمجھایا کہ جو اعمال سے حاصل نہیں ہوسکتیں بلکہ مفت ملتی ہے۔ اس نے کہا کہ میں نے سنسکرت میں انجیل دیکھی ہے اور ایک دو دفعہ یسوع مسیح سے دعا مانگی ہے اور اب میں خوب انجیل کو دیکھوں گا اور زور زور سے عیسیٰ مسیح سے دعا مانگوں گا۔ (یعنے مجھ کو آپکے وعظ سے بڑی تاثیر ہوئی اور عیسائی مذہب کی کامل رغبت پیدا ہوگئی) اب دیکھنا چاہئے کہ نواب لفٹیننٹ گورنر بہادر نے کس محنت سے ہندو رئیس کو اپنے مذہب کی طرف مائل کیا۔ اور اگرچہ ایسے ایسے رئیس اپنے مطلب نکالنے کیلئے حکام کے روبرو ایسی ایسی منافقانہ باتیں کیا کرتے ہیں تاحکام ان پر خوش ہوجائیں اور ان کو اپنا دینی بھائی بھی خیال کرلیں۔ لیکن اس تقریر سے مطلب تو صرف اس قدر ہے کہ صاحب موصوف کی اس گفتگو سے گورنمنٹ انگریزی کی آزادی کو سمجھ لینا چاہئے۔ کیونکہ جب خود نواب لفٹیننٹ گورنر بہادر اپنے خوش عقیدہ کا ہندوستان میں پھیلانا بدلی رغبت چاہتے ہیں بلکہ اس کیلئے کبھی کبھی موقعہ پاکر تحریک بھی کرتے ہیں تو پھر وہ دوسروں پر اپنے اپنے دین کی ہمدردی کرنے میں کیوں ناراض ہوں گے۔ اور حقیقت میں یکرنگی سے ہمدردی بجا لانا ایک نیک صفت ہے جس پر نفاق کی سیرت کو قربان کرنا چاہئے۔ اسی یکرنگی کے جوش سے بمبئی کے سابق گورنر سر رچرڈ ٹیمپل صاحب نے مسلمانوں کی نسبت ایک مضمون لکھا ہے چنانچہ وہ ولایت کے ایک اخبار ایوننگ سٹینڈرڈ نامی میں چھپ کر اردو اخباروں میں بھی شائع ہوگیا ہے۔ صاحب موصوف لکھتے ہیں کہ افسوس ہے کہ مسلمان لوگ عیسائی نہیں ہوتے۔ اور وجہ یہ ہے کہ ان کا مذہب ان ناممکن باتوں سے لبریز نہیں ہے جن میں ہندو مذہب ڈوبا ہوا ہے۔ ہندو مذہب اور بدھ مذہب کے قائل کرنے کیلئے ممکن ہے کہ ہنسی ہنسی میں عام دلائل سے قائل کرکے انکو مذہب سے گرایا جائے لیکن اسلامی مذہب عقل کا مقابلہ بخوبی کرتا ہے اور دلائل سے نہیں ٹوٹ سکتا ہے۔ عیسائی لوگ آسانی سے دوسرے مذہبوں کے ناممکنات ظاہر کرکے انکے پیرؤں کو مذہب سے ہٹاسکتے ہیں مگر محمدیوں کے ساتھ ایسا کرنا ان کیلئے ٹیڑھی لکیر ہے۔ سو یہ یکرنگی مسلمان امیروں میں نہیں پائی جاتی چہ جائیکہ وہ اس مضمون پر غور کریں۔ خاکسار غلام احمد