اسکی ذات اور صفات اور افعال کا شرکت غیر سے پاک ہونا اور قدرت کاملہ سے یعنےؔ
ایسا ؔ کہ پھر ذرہ شک کرنے کی گنجائش نہیں رہتی۔ اور ایسے امر ثابت شدہ پر شک کرنا ان سودائیوں اور وہمیوں اور سوفسطائیوں کا کام ہے جن کے دل اصل فطرت سے ایسے مغلوب الوہم ہیں کہ کسی صداقت پر بظن غالب اعتقاد کرنا بھی ان کو نصیب نہیں ہوتا اور ہمیشہ شکوک اور شبہات میں ڈوبے رہتے ہیں۔ اور گو روشنی کیسی ہی اپنے کمال کو پہنچ جائے۔ مگر ان کی جبلی کور باطنی کہ جو خفاش کی طرح ان کی پیدائش کو لازم ذاتی ہے کچھ روبہ کمی نہیں ہوتی۔ یہاں تک کہ خدا کے وجود میں بھی ہمیشہ ان کو دُبدھا ہی رہتی ہے۔ پس ایسے اندھوں کی بیماری حقیقت میں لاعلاج ہے۔ ورنہ جس شخص کو ایک ذرہ سی بصیرت بھی حاصل ہے۔ وہ بھی سمجھ سکتا ہے کہ جب سلسلہ تحقیق اور تدقیق کا اس حد تک پہنچ جائے کہ حقیقت واقعی بکلی منکشف ہوجائے اور چاروں طرف سے دلائل واضحہ اور شواہد قاطعہ آفتاب کی طرح چمکتے ہوئے نکل آویں۔ تو امر تنقیح اور تفتیش کا وہیں ختم ہوجاتا ہے اور طالب حق کو اسی جگہ مضبوطی سے قدم مارنا پڑتا ہے اور انسان کو بجز ماننے اس کے کچھ َ بن نہیں پڑتا اور خود ظاہر ہے کہ جب مکمل ثبوت ہاتھ میں آگیا اور ہرایک گوشہ امر مبحوثعنہ کا صبح صادق کی طرح کھل گیا اور حق الامر کا چہرہ بکمال صفائی نمودار ہوگیا۔ تو پھر کیوں دانشمند اور صحیح الحواس انسان اس میں شک کرے۔ اور کیا و جہ کہ سلیم العقل انسان کا دل پھر بھی اس پر تسلی نہ پکڑے۔ ہاں جب تک امکان غلطی باقی ہے اور بصفائی تمام انکشاف نہیں ہوا۔ تب تک غور اور فکر کا گھوڑا آگے سے آگے دوڑ سکتا ہے اور نظر ثانی در نظر ثانی ہوسکتی ہے نہ یہ کہ ثابت شدہ صداقت میں بھی وہمیوں کی طرح شک کرکے بیہودہ وساوس میں پڑتے جائیں اس کا نام خیالات کی ترقی نہیں۔ یہ تو مادۂ سودا کی ترقی ہے۔ جس شخص پر ایک امر کے جواز یا عدم جواز کی نسبت حال واقعی اظہر من الشمس ہوگیا۔ تو پھر کیا وہ مدہوش یا دیوانہ ہے کہ باوصف اس انکشاف تام کے پھر بھی اپنے دل میں یہ سوال کرے۔ کہ شاید
آپؔ کا اسی قسم کا ہے۔ جیسے تمام یہودی اب تک باصرارِ تمام کہتے ہیں کہ مسیح نے انجیل کو ہمارے نبیوں کی کتب مقدسہ سے ُ چرا کر بنالیا ہے۔ بلکہ ان کے علماء اور اَحبار تو کتابیں کھول کھول کر بتلاتے ہیں کہ اس اس جگہ سے فقرات