خدا ترسی میں ہی ہیں جن کا عکس کبھی نہ کبھی خویش اور بیگانہ پر پڑجاتا ہے۔ اور جس پر خدا راضی ہے آخر اس پر خلق اللہ بھی راضی ہوجاتی ہے۔ غرض نیک نیتی اور صالحانہ قدم سے دینی اور قومی ہمدردی میں مشغول ہونا اور فی الحقیقت دنیا اور دین میں دلی جوش سے خلق اللہ کا خیر خواہ بننا ایک ایسی نیک صفت ہے کہ اس قسم کے لوگ کسی گورنمنٹ میں پائے جانا اس گورنمنٹ کا فخر ہے اور اس زمین پر آسمان سے برکات نازل ہوتی ہیں جس میں ایسے لوگ پائے جائیں۔ لیکن سخت بدنصیب وہ گورنمنٹ ہے جس کے ماتحت سب منافق ہی ہوں کہ جو گھر میں کچھ کہیں اور روبرو کچھ کہیں۔ سو یقیناً سمجھنا چاہئے کہ لوگوں کا یکرنگی میں ترقی کرتے جانا اور گورنمنٹ کو ایک محسن دوست سمجھ کر بے تکلف اس کے ساتھ پیش آنا یہی خوش قسمتی گورنمنٹ انگریزی کی ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہمارے مربی حکام نہ صرف قول سے آزادی کا سبق ہم کو دیتے ہیں۔ بلکہ دینی امور میں خود آزادانہ افعال بجالاکر اپنی فعلی نصیحت سے ہم کو آزادی پر قائم کرنا چاہتے ہیں اور بطور نظیر کے یہی کافی ہے کہ شاید ایک ماہ کا عرصہ ہوا ہے کہ جب ہمارے ملک کے نوابلفٹیننٹ گورنر پنجاب سر چارلس ایچیسن صاحب بہادر بٹالہ ضلع گورداسپورہ میں تشریف لائے تو انہوں نے گرجا گھر کی بنیاد رکھنے کے وقت نہایت سادگی اور بے تکلفی سے عیسائی مذہب سے اپنی ہمدردی ظاہر کرکے فرمایا کہ مجھ کو امید تھی کہ چند روز میں یہ ملک دینداری اور راستبازی میں بخوبی ترقی پائے گا۔ لیکن تجربہ اور مشاہدہ سے ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ بہت ہی کم ترقی ہوئی (یعنی ابھی لوگ بکثرت عیسائی نہیں ہوئے اور پاک گروہ کرسچنوں کا ہنوز قلیل المقدار ہے) تو بھی ہم کو مایوس نہیں ہونا چاہئے کیونکہ پادری صاحبان کا کام بے فائدہ نہیں اور ان کی محنت ہرگز ضائع نہیں بلکہ خیر کے موافق دلوں میں اثر کرتی ہے اور باطن میں بہت سے لوگوں کے دل طیار ہوتے جاتے ہیں۔ مثلاً ایک مہینہ سے کم گزرا ہوگا کہ ایک معزز رئیس میرے پاس آیا اور مجھ سے ایک گھنٹہ تک دینی گفتگو کی۔ معلوم ہوتا تھا کہ اس کا دل کچھ طیاری چاہتا ہے۔ اس نے کہا کہ میں نے دینی کتابیں بہت دیکھیں لیکن میرے گناہوں کا بوجھ ٹلا نہیں اور میں خوب جانتا ہوں کہ میں نیک کام نہیں کرسکتا۔ مجھے بہت بے چینی ہے۔ میں نے جواب میں اپنی ٹوٹی پھوٹی اردو زبان میں اس کو اس لہو کی بابت