عذر و اطلاع ۱
اب* کی دفعہ کہ جو حصہ سوم کے نکلنے میں حد سے زیادہ توقف ہوگئی۔ غالباً اس توقف سے اکثر خریدار اور ناظرین بہت ہی حیران ہوں گے اور کچھ تعجب نہیں کہ بعض لوگ طرح طرح کے شکوک و شبہات بھی کرتے ہوں۔ مگر واضح رہے کہ یہ توقف ہماری طرف سے ظہور میں نہیں آئی بلکہ اتفاق یہ ہوگیا کہ جب مئی ۱۸۸۱ء کے مہینہ میں کچھ سرمایہ جمع ہونے کے بعد مطبع سفیر ہند امرتسر میں اجزاء کتاب کے چھپنے کے لئے دیئے گئے اور امید تھی کہ غایت کار دو ماہ میں حصہ سوم چھپ کر شائع ہوجائے گا۔ لیکن تقدیری اتفاقوں سے جن میں انسان ضعیف البنیان کی کچھ پیش نہیں جاسکتی۔ مہتمم صاحب مطبع سفیر ہند طرح طرح کی ناگہانی آفات اور مجبوریوں میں مبتلا ہوگئے۔ جن مجبوریوں کی وجہ سے ایک مدت دراز تک مطبع بند رہا۔ چونکہ یہ توقف ان کے اختیار سے باہر تھی۔ اس لئے ان کی قائمی جمعیت تک برداشت سے انتظار کرنا مقتضاء انسانیت تھا۔ سو الحمدللہ کہ بعد ایک مدت کے ان کے موانع کچھ رو بہ خفت ہوگئے اور اب کچھ تھوڑے عرصہ سے حصہ سوم کا چھپنا شروع ہوگیا۔ لیکن چونکہ اس حصہ کے چھپنے میں بوجہ موانع مذکورہ بالا ایک زمانہ دراز گزر گیا۔ اس لئے ہم نے بڑے افسوس کے ساتھ اس بات کو قرین مصلحت سمجھا کہ اس حصہ کے مکمل طور پر چھپنے کا انتظار نہ کیا جائے اور جس قدر اب تک چھپ چکا ہے وہی خریداروں کی خدمت میں بھیجا جاوے تا ان کی تسلی و تشفی کا موجب ہو اور جو کچھ اس حصہ میں سے باقی رہ گیا ہے۔ وہ انشاء اللہ القدیر چہارم حصہ کے ساتھ جو ایک بڑا حصہ ہے چھپوا دیا جائے گا۔
شاید ہم بعض دوستوں کی نظر میں اس وجہ سے قابل اعتراض ٹھہریں کہ ایسے مطبع میں جس میں ہر دفعہ لمبی لمبی توقف پڑتی ہے کیوں کتاب کا چھپوانا تجویز کیا گیا۔ سو اس اعتراض کا جواب ابھی عرض کیا گیا ہے کہ یہ مہتمم مطبع کی طرف سے لاچاری توقف ہے نہ اختیاری۔ اور وہ ہمارے نزدیک ان مجبوریوں کی حالت میں قابل رحم ہیں نہ قابل الزام۔ ماسوائے اس کے مطبع سفیر ہند کے مہتمم صاحب میں ایک عمدہ خوبی یہ ہے کہ وہ نہایت صحت اور صفائی اور محنت اور کوشش سے کام کرتے ہیں اور اپنی خدمت کو عرقریزی اور جانفشانی سے انجام دیتے ہیں۔ یہ پادری صاحب ہیں۔ مگر باوجود اختلاف مذہب کے خدا نے ان کی فطرت میں یہ ڈالا ہوا ہے کہ اپنے کام منصبی میں اخلاص اور دیانت کا کوئی دقیقہ باقی نہیں چھوڑتے۔ ان کو اس بات کا ایک سودا ہے کہ کام کی عمدگی اور خوبی اور صحت میں کوئی کسر نہ رہ جائے۔ انہیں وجوہ کی نظر سے باوجود اس
* طبع اوّل کا ذکر ہے۔