بات کے کہ دوسرے مطابع کی نسبت ہم کواس مطبع میں بہت زیادہ حق الطبع دینا پڑتا ہے۔ تب بھی انہیں کا مطبع پسند کیاگیا اور آئندہ امید قوی ہے کہ انکی طرف سے حصہ چہارم کے چھپنے میں کوئی توقف نہ ہو۔ صرف اس قدر توقف ہوگی کہ جب تک کافی سرمایہ اس حصہ کیلئے جمع ہوجائے۔ سو مناسب ہے کہ ہمارے مہربان خریدار اب کی طرح اس حصہ کے انتظار میں مضطرب اور متردد نہ ہوں جب ہی کہ وہ حصہ چھپے گا۔ خواہ جلدی اور خواہ دیر سے جیسا خدا چاہے گا۔ فی الفور تمام خریداروں کی خدمت میں بھیجا جائے گا۔ اور اس جگہ ان تمام صاحبوں کی توجہ اور اعانت کا شکر کرتا ہوں جنہوں نے خالصاً للہ حصہ سوم کے چھپنے کیلئے مدد دی۔ اور یہ عاجز خاکسار اب کی دفعہ ان عالی ہمت صاحبوں کے اسماء مبارکہ لکھنے سے اور نیز دوسرے خریداروں کے اندراج نام سے بوجہ عدم گنجائش اور بباعث بعض مجبوریوں کے مُقصر ہے۔ لیکن بعد اسکے اگر خدا چاہے گااور نیت درست ہوگی تو کسی آئندہ حصہ میں بہ تفصیل تمام درج کئے جائیں گے۔ اور نیز اس جگہ یہ بھی ظاہر کیا جاتا ہے کہ اس حصۂ سوم میں تمام وہ تمہیدی امور لکھے گئے ہیں جن کا غور سے پڑھنا اور یاد رکھنا کتاب کے آئندہ مطالب سمجھنے کیلئے نہایت ضروری ہے۔ اور اسکے پڑھنے سے یہ بھی واضح ہوگا کہ خدا نے دین حق اسلام میں وہ عزت اور عظمت اور برکت اور صداقت رکھی ہے جس کا مقابلہ کسی زمانہ میں کسی غیر قوم سے کبھی نہیں ہوسکا اور نہ اب ہوسکتا ہے۔ اور اس امر کو مدلل طور پر بیان کرکے تمام مخالفین پر اتمام حجت کیا گیا ہے اور ہریک طالب حق کیلئے ثبوت کامل پانے کا دروازہ کھول دیا گیا ہے تا حق کے طالب اپنے مطلب اور مراد کو پہنچ جاویں اور تا تمام مخالف سچائی کے کامل نوروں کو دیکھ کر شرمندہ اور لاجواب ہوں اور تا وہ لوگ بھی نادم اور منفعل ہوں جنہوں نے یورپ کی جھوٹی روشنی کو اپنا دیوتا بنا رکھا ہے اور آسمانی برکتوں کے قائلوں کو جاہل اور وحشی اور ناتربیت یافتہ سمجھتے ہیں اور سماوی نشانوں کے ماننے والوں کا نام احمق اور سادہ لوح اور نادان رکھتے ہیں۔ جن کا یہ گمان ہے کہ یورپ کے علم کی نئی روشنی اسلام کی روحانی برکتوں کو مٹا دے گی اور مخلوق کا مکر خالق کے نوروں پر غالب آجائے گا۔ سو اب ہریک منصف دیکھے گا کہ کون غالب آیا اور کون لاجواب اور عاجز رہا اور کون صادق اور دانشمند ہے اور کون کاذب اور نادان! واللّٰہ المستعان و علیہ التکلان۔ خاکسار غلام احمد ؐ عفی اللہ عنہ۔