بذریعہ تجارب متواترہ ثابت بھی ہوگیا تو اس سے انکار کرنا اگر حمق اور دیوانگی نہیں تو اور کیا ہے۔ اور سبؔ سے زیادہ تر حمق یہ ہے کہ حضرت باری کے خواص صفات اور افعال سے انکار کیا جائے۔ کیونکہ دوسری چیزوں کا خاصہ کہ جو ان کے غیر میں نہیں پایا جاتا محض تجربہ سے ثابت ہوتا ہے اور کوئی عقلی دلیل اس کی ضرورت پر قائم نہیں ہوتی۔ مگر جیسا کہ ہم اس سے پہلے بیان کرچکے ہیں خدا کے خواص کا ضروری ہونا مدہوش یا دیوانہ ہیں یا تمام حواس بیک دفعہ معطل اور بیکار ہوگئے ہیں کہ سنایا گیا پھر نہیں سنتے۔ اور سمجھایا گیا پھر نہیں سمجھتے۔ اور دکھایا گیا پھر نہیں دیکھتے۔ اور یاد رکھنا چاہئے کہ یہ وہم ان کا بھی سراسر لغو اور بیہودہ ہے کہ تحقیقات کا سلسلہ ہمیشہ آگے سے آگے ہی چلا جاتا ہے اور کسی حد پر آکر ختم نہیں ہوتا۔ ظاہر ہے کہ اگر ایسا ہوتا تو کوئی کام دنیا اور دین کا کبھی اختتام کو نہ پہنچتا اور کسی جج کے لئے ممکن نہ ہوتا کہ کوئی مقدمہ قطعی طور پر فیصل کرسکے اور حکم عدالت بو جہ اشتباہ دائمی غیر ممکن اور ناجائز ٹھہر جاتا۔ مگر کیا یہ درست ہے کہ حقائق کل اشیاء کبھی اور کسی طرح پر صفائی اور درستی سے منکشف نہیں ہوتیں اور ہمیشہ کلام اور بحث کرنے کی جگہ باقی رہتی ہے۔ حاشا وکلا ہرگز یہ رائے صحیح نہیں۔ بلکہ اسی وقت تک کوئی واقعہ مشتبہ رہتا ہے اور صفائی سے ثابت نہیں ہوتا جب تک کسی امر کے دریافت کرنے میں مدار کار صرف اکیلی عقل پر ہوتا ہے۔ اور جب ہی کہ کوئی رفیق ان ضروری رفیقوں میں سے جن میں سے ایک وحی رسالت ہے کہ جو امور ماوراء المحسوسات اور عالم معاد کا مخبر ہے عقل کو مل جاتا ہے تو تب تحقیقات عقلی مرتبہ یقین کامل تک پہنچ جاتی ہے۔ سو کبھی عقل الہام کامل کی رفاقت سے اور کبھی متواتر تجارب کی شہادت سے اور کبھی مضبوط اور محکم تاریخی گواہوں سے یعنے جیسا کہ موقع ہو کسی رفیق کے ذریعہ سے کامل یقین کو پالیتی ہے۔ ہاں اگر عقل کو اس راہ کا رفیق میسر نہ آوے جس راہ پر وہ چلنا چاہتی ہے تو تب مرتبہ یقین کامل تک بلاشبہ نہیں پہنچتی بلکہ غایت کار ظن غالب تک پہنچتی ہے۔ لیکن جب راہ مقصود کا رفیق میسر آجائے تو بلاریب وہ اس کو مرتبہ کامل یقین تک پہنچا دیتا ہے۔ ہے۔ وہی خیال آپ قرآن شریف کی نسبت گھسیٹ لائے۔ اتنا بڑا جھوٹ آپ نے مدت العمر بولا نہیں ہوگا کہ جو اَب عیسائیوں کے خوش کرنے کے لئے بول اٹھے۔ بہرحال یہ مقولہ