بخوبی سمجھ سکے گا۔ اس جگہ یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ جیسے اور چیزوں کے خواص متواتر تجربہ اور آزمائش سے معلوم ہوتے ہیں۔ ایسا ہی بے نظیری کا خاصہ کہ جو قرآن شریف کی فصاحت و بلاغت میں پایا جاتا ہے۔ وہ بھی بذریعہ تجربہ اور آزمائش ہی معلوم ہوتا ہے۔ خداؔ نے خواص الاشیاء کی سچائی معلوم کرنے کا یہی ایک طریق رکھا ہے ​ نہ آیا کسی حکیم نے زور شور سے اس اعتقاد باطل کا ردّ نہ لکھا اور نہ اس قوم تباہ شدہ کی اصلاح کی۔ بلکہ خود حکماء اس قسم کے صدہا ناپاک عقیدوں میں آلودہ اور مبتلا تھے جیسا پادری یوت۱؂ صاحب لکھتے ہیں کہ حقیقت میں یہ عقیدہ تثلیث کا عیسائیوں نے افلاطون سے اخذ کیا ہے اور اس احمق یونانی کی غلط بنیاد پر ایک دوسری غلط بنیاد رکھ دی ہے۔ غرض خدا کا سچا اور کامل الہام عقل کا دشمن نہیں ہے بلکہؔ عقل ناقص نیم عاقلوں کی آپ دشمن ہے۔ جیسا ظاہر ہے کہ تریاق فی حد ذاتہ انسان کے بدن کے لئے کوئی بری چیز نہیں ہے لیکن اگر کوئی اپنی کوتہ عقلی سے زہر کو تریاق سمجھ لے تو یہ خود اس کی عقل کا قصور ہے نہ تریاق کا پس یاد رکھنا چاہئے کہ یہ وہم کہ ہریک امر کی تفتیش کے لئے الہامی کتاب کی طرف رجوع کرنا محل خطر ہے۔ یہ سراسر حمق اور نادانی ہے۔ کیونکہ جیسا کہ ہم لکھ چکے ہیں۔ الہام عقل کے لئے ایک آئینہ حق نما ہے اور اس کی سچائی پر بھی یہی دلیل اعظم ہے کہ وہ ایسے تمام امور سے بکلی پاک ہے کہ جو خدا کی قدرت اور کمالیّت اور قدوسی پر نظر کرنے کے بعد محال ثابت ہوں۔ بلکہ دقائق الٰہیات میں کہ جو نہایت مخفی اور عمیق ہیں عقل ضعیف انسانی کا وہی ایک ہادی اور رہبر ہے۔ پس ظاہر ہے کہ اس کی طرف رجوع کرنا عقل کو بیکار نہیں کرتا۔ بلکہ عقل کو ان باریک بھیدوں تک پہنچاتا ہے جن تک خودبخود پہنچنا عقل کے لئے سخت مشکل تھا۔ سو الہام حقیقی سے یعنی قرآن شریف سے عقل کو سراسر فائدہ اور نفع پہنچتا ہے نہ زیاں اور نقصان اور عقل بذریعہ الہام حقیقی خطرات سے بچ جاتی ہے نہ یہ کہ خطرات میں پڑتی ہے۔ کیونکہ یہ بات ہریک دانا کے نزدیک مسلم بلکہ اجلی بدیہات ہے کہ محض تشخیص عقلی میں خطا اور غلطی ممکن ہے۔ لیکن عالم الغیب کی کلام میں خطا اور غلطی ممکن نہیں پس اب تم آپ ہی ذرہ منصف ہوکر سوچو کہ جس چیز کو کبھی کبھی سخت لغزشیں پیش آجاتی ہیں ​ ایک ؔ مسیحی متکلم صاحب یعنے وہی صاحب نامہ نگار نور افشاں اپنا دوسرا بہروپ بدل کر