​ کہ جس کسی شے کے کسی خاصہ کے وجود میں شک ہو تو اس کو اس قدر آزمایا جاوے جس سے دلی اطمینان پیدا ہوجائے۔ اور جو شخص بعد آزمائش ایک خاصہ کے کہ جو ایک شے میں پایا جاتا ہے پھر بھی یہ وہم کرے کہ کیوں یہ خاصہ اس شے میں پایا جاتا ہے تو وہ شخص حقیقت میں پاگل اور سودائی ہے۔ مثلاً جب ایک شخص نے ​ اگر اُس کے ساتھ ایک ایسا رفیق ملایا گیا کہ جو اس کو لغزشوں سے بچاوے اور پاؤں پھسلنے کی جگہ سے سنبھل رکھے تو کیا اس کے لئے اچھا ہوا یا برا ہوا اور کیا اس رفیق نے اس کو اپنے کمال مطلوب تک پہنچایا یا کمال مطلوب سے روک دیا۔ یہ کیسی کور باطنی ہے کہ معین اور مددگار کو مخالف اور مزاحم سمجھا جاوے اور مکمّل اور متمم کو رہزن اور نقصان رساں قرار دیا جائے۔ آپ لوگ جب اپنے حواس میں قائم ہوکر اور طالب حق بن کر اس مسئلہ میں غور کریں گے تو آپ پر فی الفور واضح ہوجائے گا کہ خدا نے جو عقل کا رفیق الہام کو ٹھہرا دیا ہے یہ عقل کے حق میں کوئی ضرر کی بات نہیں کی بلکہ اس کو سرگردان اور حیران پاکر حق شناسی کے لئے ایک یقینی آلہ عطا کیا ہے جس کی نشاندہی سے عقل کو یہ فائدہ پہنچتا ہے کہ وہ صدہا کج اور ناراست راہوں میں بھٹکتے پھرنے سے بچؔ جاتی ہے اور سرگشتہ اور آوارہ نہیں ہوتی اور ہر طرف حیرانی سے بھٹکتی نہیں پھرتی بلکہ اصل مقصود کی خاص راہ کو پالیتی ہے اور جو ٹھیک ٹھیک گوہر مراد کی جگہ ہے اس کو دیکھ لیتی ہے اور بیہودہ جانکنی سے امن میں رہتی ہے اس کی ایسی مثال ہے جیسے کوئی سچا مخبر کسی گمشدہ شخص کا بدرستی تمام پتہ لگا دیوے کہ وہ فلاں طرف گیا ہے اور فلاں شہر اور فلاں محلہ اور فلاں جگہ میں چھپا ہوا بیٹھا ہے۔ سو ظاہر ہے کہ ایسے مخبر پر جو کسی گمشدہ کا ٹھیک ٹھیک پتہ لگا دیتا ہے اور اس تک پہنچنے کا سہل اور آسان راستہ بتلا دیتا ہے کوئی باعقل آدمی یہ اعتراض نہیں کرتا کہ وہ ہماری کارروائی کا حارج ہوا ہے بلکہ اس کے بغایت درجہ ممنون اور شکرگزار ہوتے ہیں کہ ہم بے خبر تھے اس نے خبر دی اور ہم ہر طرف بھٹکتے پھرتے تھے اس نے خاص جگہ بتلا دی۔ اور ہم نری اٹکلیں دوڑاتے تھے اس نے یقین کا دروازہ ہم پر کھول دیا۔ ایسا ہی وہ لوگ جن کو خدا نے عقل سلیم بخشی ہے حقیقی الہام کے مرہوم منت ​ اسی سوال کے نیچے فرماتے ہیں۔ ابؔ تو وہ متکلم دینوی امور میں مستغرق ہے ورنہ یہ ثابت کر