ملک میں لاکھوں نظر آتے ہیں اس فہمائش سے دیوے کہ وہ اس مضمون کو معہؔ جمیع لطائف اور نکات اسکے کے اپنی عبارت میں بنادے۔ پس جب ایسا مضمون بن کر طیار ہوجائے تو وہ ہمارے پاس بھیج دینا چاہئے اور ہم اس عبارت کا کمالات قرآنی سے محروم اور بے نصیب ہونا ایسی واضح تقریر سے بیان کردیں گے جس بیان کو ہریک اردو خوان ​ کےؔ اختلاف میں دانشمندوں کے لئے صانع عالم کی ہستی اور قدرت پر کئی نشان ہیں۔ دانشمند وہی لوگ ہوتے ہیں کہ جو خدا کو بیٹھے ‘ کھڑے اور پہلو پر پڑے ہونے کی حالت میں یاد کرتے رہتے ہیں اور زمین اور آسمان اور دوسری مخلوقات کی پیدائش میں تفکّر اور تدبّر کرتے رہتے ہیں اور ان کے دل اور زبان پر یہ مناجات جاری رہتی ہے کہ اے ہمارے خداوند تو نے ان چیزوں میں سے کسی چیز کو عبث اور بیہودہ طور پر پیدا نہیں کیا۔ بلکہ ہریک چیز تیری مخلوقات میں سے عجائبات قدرت اور حکمت سے بھری ہوئی ہے کہ جو تیری ذات بابرکات پر دلالت کرتی ہے۔ ہاں دوسری الہامی کتابیں کہ جو محرف اور مبدل ہیں ان میں نامعقول اور محال باتوں پر جمے رہنے کی تاکید پائی جاتی ہے جیسی عیسائیوں کی انجیل شریف۔ مگر یہ الہام کا قصور نہیں یہ بھی حقیقت میں عقل ناقص کا ہی قصور ہے۔ اگر باطل پرستوں کی عقل صحیح ہوتی اور حواس درست ہوتے تو وہ کاہے کو ایسی محرف اور مبدل کتابوں کی پیروی کرتے اور کیوں وہ غیر متغیر اور کامل اور قدیم خدا پر یہ آفات اور مصیبتیں جائز رکھتے کہ گویا وہ ایک عاجز بچہ ہوکر ناپاک غذا کھاتا رہا اور ناپاک جسم سے مجسم ہوا اور ناپاک راہ سے نکلا اور دارالفنا میں آیا اور طرح طرح کے دکھ اٹھا کر آخر بڑی بدبختی اور بدنصیبی اور ناکامی کی حالت میں ایلی ایلی کرتا مرگیا۔ آخر الہام ہی تھا جس نے اس غلطی کو بھی دور کیا۔ سبحان اللہ کیا بزرگ اور دریائے رحمت وہ کلام ہے جس نے مخلوق پرستوں کو پھر توحید کی طرف کھینچا۔ واہ کیا پیارا اور دلکش وہ نور ہے کہ جو ایک عالم کو ظلمت کدہ سے باہر لایا اور بجز اس کے ہزارہا لوگ عقلمند کہلا کر اور فلاسفر بن کر اس غلطی اور اس قسم کی بے شمار غلطیوں میں ڈوبے رہے اور جب تک قرآن شریف ​ زندگی ایسوں کی کیا خاک ہے اس دنیا میں ​ جن کا اس نور کے ہوتے بھی دل اَعمیٰ نکلا جلنےؔ سے آگے ہی یہ لوگ تو جل جاتے ہیں ​ جن کی ہر بات فقط جھوٹ کا پتلا نکلا