قرآن شریف کے کسی مقام میں سے کوئی مضمون لیکر کسی عربیؔ دان کو کہ جوآج کل اس
انکارؔ نہیں کرسکتے کہ اس کلام مقدس میں فکر اور نظر کی مشق کیلئے بڑی بڑی تاکیدیں ہیں یہاں تک کہ مومنوں کی علامت ہی یہی ٹھہرا دی ہے کہ وہ ہمیشہ زمین اور آسمان کے عجائبات میں فکر کرتے رہتے ہیں اور قانون حکمت الٰہیہ کو سوچتے رہتے ہیں جیسا کہ ایک جگہ قرآن شریف میں فرمایا ہے۔ 3 3 3 ۔ ۱ یعنے آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور رات دن
از مشرقِ معانی صدہا دقائق آورد
قد ہلال نازک زاں نازکی خمیدہ
کیفیت علومش دانی چہ شان دارد
شہدیست آسمانی از وحی حق چکیدہ
آں نیر صداقت چوں رو بعالم آورد
ہر بوم شب پرستی در کنج خود خزیدہ
روئے یقیں نہ بیند ہرگز کسے بدنیا
اِلا کسے کہ باشد بارؤیش آرمیدہ
آنکس کہ عالمش شد شد مخزنِ معارف
و آن بے خبر ز عالم کیں عالمے ندیدہ
باران فضل رحماں آمدبہ مقدم او
بدقسمت آنکہ ازوے سوئے دِگر دویدہ
میل بدی نباشد اِلّا رگے زشیطاں
آں را بشر بدانم کزہر شرے رہیدہ
اے کان دلربائی دانم کہ از کجائی
تو نور آں خدائی کیں خلق آفریدہ
میلم نماند باکس محبوب من توئی بس
زیرا کہ زاں فغاں رس نورت بما رسیدہ
دیگر
نور فرقاں ہے جو سب نوروں سے اَجلی نکلا
پاک وہ جس سے یہ انوار کا دریا نکلا
حق کی توحید کا مرجھا ہی چلا تھا پودا
ناگہاں غیب سے یہ چشمہ اصفی نکلا
یا الٰہی تیرا فرقاں ہے کہ اک عالم ہے
جو ضروری تھا وہ سب اس میں مہیا نکلا
سب جہاں چھان چکے ساری دکانیں دیکھیں
مئے عرفان کا یہی ایک ہی شیشہ نکلا
کس سے اس نور کی ممکن ہو جہاں میں تشبیہ
وہ تو ہر بات میں ہر وصف میں یکتا نکلا
پہلے سمجھے تھے کہ موسیٰ کا عصا ہے فرقاں
پھر جو سوچا تو ہر اک لفظ مسیحا نکلا
ہےؔ قصور اپنا ہی اندھوں کا وگرنہ وہ نور
ایسا چمکا ہے کہ صد نَیّرِ بیضا نکلا