ثابت کر دیں گے۔ اور اس بات کا امتحان کرنا اور حق اور باطل میں فرق معلوم
علیٰ ؔ ہذا القیاس جس طرح آنکھ کے نور کے فوائد صرف آفتاب ہی سے کُھلتے ہیں۔ اور اگر وہ نہ ہو تو پھر بینائی اور نابینائی میں کچھ فرق باقی نہیں رہتا اسی طرح بصیرت عقلی کی خوبیاں بھی الہام ہی سے کھلتی ہیں۔ کیونکہ وہ عقل کو ہزارہا طور کی سرگردانی سے بچاکر فکر کرنے کے لئے نزدیک کا راستہ بتلا دیتا ہے اور جس راہ پر چلنے سے جلد تر مطلب حاصل ہوجائے
سامان قرآن شریف میں موجود ہے یا انجیل میں۔ جس حالت میں ہم نے اسی فیصلہ کے لئے کہ تا انجیل اور قرآن شریف کی نسبت فرق معلوم ہوجائے دس ہزار روپیہ کا اشتہار بھی اپنی کتاب کے ساتھ شامل کردیا ہے تو پھر آپ جب تک راست بازوں کی طرح اب ہماری کتاب کے مقابلہ پر اپنی انجیل کے فضائل نہ دکھلاویں تب تک کوئی دانشمند عیسائی بھی آپ کی کلام کو اپنے دل میں صحیح نہیں سمجھے گا۔ گو زبان سے ہاں ہاں کرتا رہے۔ حضرات!! آپ خوب یاد رکھیں کہ انجیل اور توریت کا کام نہیں کہ کمالات فرقانیہ کا مقابلہ کرسکیں۔ دور کیوں جائیں انہیں دو اَمروں میں کہ جو اب تک اس کتاب میں فضائل فرقانیہ میں سے بیان ہوچکے ہیں مقابلہ کرکے دیکھ لیں یعنے اول وہ امر کہ جو متن میں تحریر ہوچکا ہے کہ فرقان مجید تمام الٰہی صداقتوں کا جامع ہے۔ اور کوئی محقق کوئی ایسا باریک دقیقہ الٰہیات کا پیش نہیں کرسکتا کہ جو قرآن شریف میں موجود نہ ہو۔ سوؔ آپ کی انجیل اگر کچھ حقیقت رکھتی ہے۔ تو آپ پر لازم ہے کہ کسی مخالف فریق کے دلائل اور عقائد کو مثلاً برہمو سماج والوں یا آریا سماج والوں یا دہریہ کے شبہات کو انجیل کے ذریعہ سے عقلی طور پر ردّ کرکے دکھلاؤ۔ اور جو جو خیالات ان لوگوں نے ملک میں پھیلا رکھے ہیں ان کو اپنی انجیل کے معقولی بیان سے دور کرکے پیش کرو۔ اور پھر قرآن شریف سے انجیل کا مقابلہ کرکے دیکھ لو اور کسی ثالث سے پوچھ لو کہ محققانہ طور پر انجیل تسلی کرتی ہے یا قرآن شریف تسلی کرتا ہے۔ دوسرے وہ امر جو حاشیہ در حاشیہ نمبر ایک میں لکھا گیا ہے یعنے یہ کہ قرآن شریف باطنی طور پر طالب صادق کا مطلوب حقیقی سے پیوند کرادیتا ہے اور پھر وہ طالب خدائے تعالیٰ کے قرب سے مشرف ہوکر اس کی طرف سے الہام پاتا ہے جس الہام میں عنایات حضرت احدیت
اس کے حال پر مبذول ہوتی ہیں اور مقبولین میں شمار کیا جاتا ہے اور اس الہام کا صدق ان پیشین گوئیوں کے پورا ہونے سے ثابت ہوتا ہے کہ جو اس میں ہوتی ہیں اور حقیقت میں یہی پیوند جو اوپر لکھا گیا ہے حیات ابدی کی حقیقت ہے۔ کیونکہ زندہ سے پیوند زندگی کا موجب ہے۔