بات کا ہم ہی ذمہ اٹھاتے ہیں کہ یہ معجزہ بھی نہایت آسانیؔ سے اس پر اس
خدا کی کلام کا کامل طور پر انہیں کو قدر ہوتا ہے کہ جو اہل عقل ہیں۔ جیسا کہ خدائے تعالیٰ نے آپ فرمایا ہے۔3۔ ۱ الجزو نمبر۲۰ یعنے یہ مثالیں ہم لوگوں کے لئے بیان کرتے ہیں پر ان کو معقول طور پر وہی سمجھتے ہیں کہ جو صاحب علم اور دانشمند ہیں۔
کہنے کے مجاز ہی نہیں۔ تو پھر آپ کا ایمان بھی عجب ایمان ہے کہ اپنے استاد اور رسول کے برخلاف قدم چلا رہے ہیں۔ اور جس کتاب کو حضرت مسیح ناقص کہہ چکے ہیں اس کو کامل کہے جاتے ہیں۔ کیا آپ کی سمجھ مسیح کی سمجھ سے کچھ زیادہ ہے یا مسیح کا کہنا قابل اعتبار نہیں۔ اور اگر آپ یہ کہیں کہ اگرچہ انجیل مسیح کے زمانہ میں ناقص تھی۔ مگر مسیح نے یہ بھی بطور پیشگوئی کے کہہ دیا تھا کہ جو باتیں میرے بیان کرنے سے رہ گئی ہیں۔ ان کو تسلی دہندہ آکر بیان کردے گا تو بہت خوب۔ لیکن ہم کہتے ہیں کہ اگر وہ تسلی دہندہ جس کے آنے کی مسیح نے انجیل میں بشارت دی ہے اور جس کی نسبت لکھا ہے کہ وہ دینی صداقتوں کو مرتبۂ کمال تک پہنچائے گا اور آئندہ کے حالات یعنے قیامت کی خبریں انجیل کی نسبت بہت مفصل بیان کرے گا۔ آپ کے خیال میں بجز حضرت محمد مصطفیٰ صلوسلم عل جن پر قرآن شریف نازل ہوا کہ جو سب کتب سابقہ کی نسبت کامل ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اور اس کا ثبوت دیتا ہے۔ کوئی اور شخص ہے جس نے حضرت مسیح کے بعد ظہور کرکے دینی صداقتوں کو کمال کے مرتبہ تک پُہنچایا۔ اورؔ آئندہ کی خبریں مسیح کی نسبت زیادہ بتلائیں تو اس کا نام بتلانا چاہئے اور ایسی کتاب کو پیش کرنا چاہئے کہ جو مسیح کے بعد عیسائیوں کو خدا کی طرف سے ملی جس نے وہ اپنی صداقتیں پیش کیں کہ جو مسیح کی فرمودہ ہیں موجود نہ تھیں اور آخری حالات اور آئندہ کی خبریں بتلائیں جن کے بتلانے سے مسیح قاصر رہا۔ تا اُسی کتاب کو قرآن شریف کے مقابلہ پر وزن کیا جائے۔ مگر یہ تو زیبا نہیں کہ آپ لوگ مسیح کے پیرو کہلا کر پھر اس چیز کو کامل قرار دیں جس کو آپ سے اٹھارہ سو بیاسی برس پہلے مسیح ناقص قرار دے چکا ہے اور اگر آپ کا مسیح کے قول پر ایمان ہی نہیں۔ اور بذات خود چاہتے ہیں کہ انجیل کا قرآن شریف سے مقابلہ کریں تو بسم اللہ آئیے اور انجیل میں سے وہ کمالات نکال کر دکھلائیے کہ جو ہم نے اسی کتاب میں قرآن شریف کی نسبت ثابت کئے ہیں تا منصف لوگ آپ ہی دیکھ لیں کہ معرفت الٰہی کا