کرؔ لیناکچھ مشکل بات نہیں۔ کوئی ایسا امر نہیں جس میں کچھ خرچ ہوتا ہے یا کسی اور ​ وہ راہ دکھلا دیتا ہے اور ہریک عاقل خوب سمجھتا ہے کہ اگر کسی باب میں فکر کرنے کے وقت اس قدر مدد مل جائے کہ کسی خاص طریق پر راہ راست اختیار کرنے کے لئے علم حاصل ہو جائے تو اس علم سے عقل کو بڑی مدد ملتیؔ ہے اور بہت سے پراگندہ خیالوں اور ناحق کی درد سریوں سے نجات ہو جاتی ہے۔ الہام کے تابعین نہ صرف اپنے خیال ​ اور جس کتاب کی متابعت سے اس پیوند کے آثار ظاہر ہوجائیں۔ اس کتاب کی سچائی ظاہر بلکہ اَظہر من الشمس ہے۔ کیونکہ اس میں صرف باتیں ہی باتیں نہیں بلکہ اس نے مطلب تک پہنچا دیا ہے۔ سو اب ہم حضرات عیسائیوں سے پوچھتے ہیں کہ اگر آپ کی انجیلی تعلیم راست اور درست اور خدا کی طرف سے ہے تو بمقابلہ قرآن شریف کی روحانی تاثیروں کے جن کا ہم نے ثبوت دے دیا ہے۔ انجیل کی روحانی تاثیریں بھی دکھلائیے اور جو کچھ خدا نے مسلمانوں پر بہ برکت متابعت قرآن شریف اور بہ یمنِ اتباع حضرت محمد مصطفی افضل الرسل و خاتم الرسل صلوسلم عل کے امور غیبیہ و برکات سماویہ ظاہر کئے اور کرتا ہے۔ وہؔ آپ بھی پیش کیجئے۔ تاسیہ روئے شودہر کہ دروغش باشد۔ مگر آپ یاد رکھیں کہ آپ دونوں قسم کے امور متذکرہ بالا میں سے کسی امر میں مقابلہ نہیں کرسکتے۔ انجیل کی تعلیم کا کامل ہونا تو یک طرف وہ تو صحیح بھی نہیں رہی۔ اس نے تو اپنی پہلی ہی تعلیم میں ہی ابن مریم کو ولد اللہ ٹھہرا کر اَوّلُ الدُّنِ دُردی دکھلا دیا۔ رہی توریت کی تعلیم سو وہ بھی محرف اور ناقص ہونے کی وجہ سے ایک موم کا ناک ہورہی ہے جس کو عیسائی اپنے طور پر اور یہودی اپنے طور پر بنارہے ہیں۔ اگر توریت میں الٰہیات اور عالم معاد کے بارے میں وہ تفصیلات ہوتیں کہ جو قرآن شریف میں ہیں تو عیسائیوں اور یہودیوں میں اتنے جھگڑے کیوں پڑتے۔ سچ تو یہ ہے کہ جس قدر سورہ اخلاص کی ایک سطر میں مضمون توحید بھرا ہوا ہے۔ وہ تمام توریت بلکہ ساری بائیبل میں نہیں پایا جاتا۔ اور اگر ہے تو کوئی عیسائی ہمارے سامنے پیش کرے۔ پھر جس حالت میں توریت میں بلکہ تمام بائیبل میں صحت اور صفائی اور کمالیت سے توحید حضرت باری کا ذکر ہی نہیں۔ اور اسی وجہ سے توریت اور انجیل میں ایک گڑبڑ