انشا پردازوں کوؔ اپنے مددگار بنالے۔ یہ مثال متذکرہ بالا کوئی خیالی اور فرضی بات ​حقانی صداقتوں کی ترقی ہمیشہ انہیں لوگوں کے ذریعہ سے ہوتی رہی ہے کہ جو الہام کے پابند ہوئے ہیں اور وحدانیت الٰہی کے اسرار دنیا میں پھیلانے والے وہی برگزیدہ لوگ ہیں کہ جو خدا کی کلام پر ایمان لائے مگر پھر عمداً اس واقعہ معلومہ کے برخلاف بیان کیا ہے اور تعصب یہ کہ اپنی بات کو خواہ نخواہ سرسبز کرنے کے لئے اس بدیہی صداقت کو چھپایا ہے کہ الٰہیات میں عقل مجرد مرتبہ یقین کامل تک نہیں ​ کچھ اعتماد نہ رہا۔ کیونکہ اپنی آنکھ سے تو انہوں نے کچھ بھی نہ دیکھا اور کسی قسم کی برکت مشاہدہ نہ کی۔ غرض جس کا ایمان عیسائیوں اور یہودیوں اور ہندوؤں کی طرف صرف قصوں اور کہانیوں کے سہارے پر موجود ہو۔ اسکے ایمان کا کچھ بھی ٹھکانا نہیں اور آخر اس کیلئے وہی ضلالت درپیش ہے جس ضلالت میں یہ بدنصیب قوم عیسائیوں وغیرہ کی مبتلا ہوگئی جن کی کل جائداد فقط وہی دیرینہ کہانیاں اور ہزاروں برسوں کے خستہ شکستہ قصے ہیں۔ لیکن ایسے شخصوں کے ایمان کا کچھ بھی قیام نہیں اور اُن کو کسی طرح پتہ نہیں مل سکتا کہ وہ پورا ناخدا جو پہلے انکے بزرگوں کے ساتھ تھا اب کہاں اور کدھر ہے اور موجود ہے یا نہیں۔ سو بھائیو اگر تم خدا کے خواہاں ہو۔ اگر تم یقین کے طالب ہو۔ اگر تمہارے دل میں دنیا کی محبت نہیں تو اٹھو اور سجدات شکر کرو کہ خدا تمہاری جماعت کو فراموش نہیں کرتا۔ وہ تمہیں ضائع کرنا نہیں چاہتا۔ تا تم اسکے حضور میں شکر گزار ٹھہرو۔ خدا کے نشانوں کو تحقیر کی نظر سے مت دیکھو کہ یہ تمہارے لئے خطرناک ہے خدا کی نعمتوں کو ردّ مت کرو کہ یہ اسکے سُخط کا موجب ہے دنیا سے دل مت لگاؤ کہ یہی سب نخوتوں اور حسدوں اور خود پسندیوں کا اصل ہے۔ خدا کی آیات سے مونہہ مت پھیرو کہ اسکا انجام اچھا نہیں۔ وَقَالَ اللّٰہُ تَعَالٰی۔3 ۱؂ الخ مختصر پیش تو گفتم غم دل ترسیدم کہ دل آزردہ شوی ورنہ سخن بسیاراست اب ہم اس تقریر کو اس دعا پر ختم کرتے ہیں۔ 3 ۲؂ منہ ​ اور کم توجہی کی و جہ سے اس تصور باطل میں گرفتار ہیں کہ گویا انجیلی تعلیم قرآنی تعلیم سے کامل اور بہتر ہے۔ چنانچہ ابھی ایک پادری صاحب نے ۳۔ مارچ ۱۸۸۲ء کے پرچہ نور افشاں میں یہ سوال پیش کردیا ہے کہ حیات ابدی کی نسبت کتاب مقدس میں کیا نہ تھا کہ قرآن یا صاحب قرآن لائے۔ اور قرآن کن کن امروں اور تعلیمات میں انجیل پر فوقیت رکھتا ہے۔ تا یہ ثابت ہو کہ انجیل کے اترنے کے بعد قرآن کے نازل ہونے کی بھی ضرورت تھی۔ ایسا ہی ایک عربی رسالہ موسوم بہ