موتؔ کی نظیر بنانے پر ہرگز قادر نہیں ہوسکتا اگرچہ دنیا کے صدہا زبان دانوں اور ​ قویٰؔ عقلیہ کو بالکل بیکار چھوڑا جاتا ہے اور گویا الہام اور عقل ایک دوسرے کی نقیض اور ضد ہیں کہ جو ایک جگہ جمع نہیں ہوسکتیں۔ یہ برہمو لوگوں کی کمال درجہ کی بدفہمی اور بداندیشی اور ہٹ دھرمی ہے اور اس عجیب وہم کی عجیب طرح کی ترکیب ہے جس کے اجزاء میں سے کچھ تو جھوٹ اور کچھ تعصب اور کچھ جہالت ہے۔ جھوٹ یہ کہ باوصفؔ اس بات کے کہ ان کو بخوبی معلوم ہے کہ ​ امت مرحومہ پر بہت ہی مہربان ہے اور قدیم سے وہ بھی چاہتا ہے کہ اس امت کو اپنی نورانی برکتوں اور آسمانی نوروں کے ساتھ غیر قوموں پر بدیہی ترجیح رہے تا دشمن یہ نہ کہے کہ ہم میں اور تم میں کون سا فرق ہے۔ تامعاند کہ خدا اس کا روسیہ کرے اپنے خبث باطن اور عادت دروغی سے یہ کہنا نہ پاوے کہ آنحضرت سیّد الطیبین اور اس کی پاک اور طیب آل اور اس کی نورانی جماعت نے آسمانی برکتوں کو نہیں دکھلایا۔ تم فکر کرو اور سوچو۔ کیا تمہارے لئے یہ بہتر تھا کہ تم آسمانی نوروں سے ایسے ہی بے نصیب رہ کر گزشتہ قصوں کے سہارے سے زندگی بسر کرتے جیسے تمہارے مخالف اپنی زندگی بسر کررہے ہیں۔ یا تمہارے لئے یہ بہتر اور شکر کی جگہ ہے کہ خدا ہمیشہ تم میں سے اور تمہاری قوم میں سے بعض افراد کو اپنے نوروں میں سے حصہ وافر دے کر تم سب کے ایمان کو بمرتبہ کمال پہنچاوے اور مخالفوں کو ملزم اور ذلیل کرے۔ غیر قوموں کی طرف دیکھو کہ وہ کیونکر ڈوبی اور برباد ہوئی۔ یہی باعث تھا کہ انجیل وغیرہ گزشتہ کتابیں بعلتِ فساد اور تحریف کے اپنی ذات اور صفات میں کسی معجزہ اور تاثیر روحانی کا مظہر نہ ہوسکیں اور صرف بطور کتھا اور قصہ کے پرانے معجزات پر مدار رہا لیکن کیونکر ممکن تھا کہ ایسے لوگ جنہوں نے حضرت موسیٰ کے عصا ؔ کو بچشم خود سانپ بنتے نہیں دیکھا اور نہ حضرت عیسیٰ کے ہاتھ سے کوئی مردہ قبر سے اٹھتا مشاہدہ کیا وہ صرف بے اصل قصوں کے سننے سے یقین کامل تک پہنچ جاتے۔ ناچار یہودی و عیسائی رُو بدنیا ہوگئے اور عالم آخرت پر ان کو ​ رب العالمین بنا رکھا ہے۔ مگر پھربھی ان حضرات کو خدائے تعالیٰ سے ایسی لاپروائی اور بے غرضی ہے کہ کچھ بھی مواخذہ کے روز سے نہیں ڈرتے اور کچھ ایسے سوئے ہوئے ہیں کہ صدہا علماء فضلاء جگا جگا کر تھک گئے۔ لیکن ان کی آنکھ نہیں کھلتی اور ہمیشہ دنیا پرستی