نہیں ہے بلکہ یہ واقعہ حقہؔ ہے جس کا قرآن شریف ہی کے وقت میں امتحان ہوچکا ہے اور
پہنچاؔ سکتی۔ اور جہالت یہ کہ الہام اور عقل کو دو امر متناقض سمجھ لیا ہے کہ جو ایک جگہ جمع نہیں ہوسکتے اور الہام کو عقل کا مضر اور مخالف قرار دیا ہے۔ حالانکہ یہ خدشہ سراسر بے اصل ہے۔ ظاہر ہے کہ سچے الہام کا تابع عقلی تحقیقاتوں سے رک نہیں سکتا۔ بلکہ حقائق اشیاء کو معقول طور پر دیکھنے کے لئے الہام سے مدد پاتا ہے اور الہام کی حمایت اور اس کی روشنی کی برکت سے عقلی وجوہ میں کوئی دھوکا اس کو پیش نہیں آتا اور نہ خطاکار عاقلوں کی طرح بے جا دلائل
رسالہ عبدالمسیح ابن اسحق الکندی اسی غرض سے افترا کیا گیا ہے کہ تا انجیل کی ناقص اور آلودہ تعلیم کو سادہ لوحوں کی نظر میں کسی طرح قابل تعریف ٹھہرایا جائے اور قرآنی تعلیم پر بے جا الزامات لگائے جائیں۔ مگر نادان عیسائی نہیں جانتے کہ بلا دلیل ایک کتاب کی تعریف کرنا اور ایک کی مذمت کرتے رہنا نہ کسی کتاب کو قابل تعریف ٹھہراتا ہے نہ قابل مذمت۔ بیہودہ طور پر مونہہ سے بات نکالنا کون نہیں جانتا۔ لیکن جس حالت میں ہم نے اسی کتاب میں انجیلی تعلیم کا حقانیت سے بے نصیب ہونا اور قرآنی تعلیم کا مجمع الانوار ہونا صدہا دلائل سے ثابت کردیا ہے اور اس پر نہ صرف دس ہزار روپیہ کا اشتہار دیا بلکہ ہمارا خداوند کریم کہ جو دلوں کے پوشیدہ بھیدوں کو خوب جانتا ہے۔ اس بات پر گواہ ہے کہ اگر کوئی شخص ایک ذرہ کا ہزارم حصہ بھی قرآن شریف کی تعلیم میں کچھ نقص نکال سکے یا بمقابلہ اس کے اپنی کسی کتاب کی ایک ذرہ بھر کوئی ایسی خوبی ثابت کرسکے کہ جو قرآنی تعلیم کے برخلاف ہو اور اس سے بہتر ہو۔ تو ہم سزائے موت بھی قبول کرنے کو طیار ہیں۔اب منصفو!! نظر کرو اور خدا کے واسطے ذرہ دل کو صاف کرکے سوچو کہ ہمارے مخالفوں کی ایمانداری اور خدا ترسی کس قسم کی ہے کہ باوجود لاجواب رہنے کے پھر بھی فضول گوئی سے باز نہیں آتے۔
آؤ عیسائیو ادھر آؤ
نور حق دیکھو راہ حق پاؤ
جس قدر خوبیاں ہیں فرقان میں
کہیں انجیل میں تو دکھلاؤ