دی جاوے گی تو پھر بھی باوجود سخت عناد اور اندیشہ رسوائی اور خوف ​ کمالؔ کہ جو ترقی فی المعقولات ہے۔ ناحق ضائع جاتا ہے۔ اور معرفت کاملہ کے حاصل کرنے سے انسان رک جاتا ہے۔ اور جس حیات ابدی اور سعادت دائمی کے حصول کی انسان کو ضرورت ہے۔ اس کے حصول سے الہامی کتابیں سد راہ ہوجاتی ہیں۔ اما الجواب واضح ہو کہ ایسا سمجھنا کہ گویا خدا کی سچی کتاب پر عمل کرنے سے ​ کہ خضر رسول نہیں تھا ورنہ وہ اپنی امت میں ہوتا۔ نہ جنگلوں اور دریاؤں کے کنارہ پراور خدا نے بھی اس کو رسول یا نبی کرکے نہیں پکارا۔ مگر جو اس کو اطلاع دی جاتی تھی اس کا نام یقینی اور قطعی رکھا ہے۔ کیونکہ قرآن کے عرف میں علم اسی چیز کا نام ہے کہ جو قطعی اور یقینی ہو۔ اور خود ظاہر ہے کہ اگر خضر کے پاس صرف ظنیات کا ذخیرہ ہوتا تو اس کے لئے کب جائز تھا کہ امر مظنون پر بھروسا کرکے ان امور کو کرتا کہ جو صریح خلاف شرع اور منکر بلکہ باتفاق تمام پیغمبروں کے کبائر میں داخل تھے۔ اور پھر اس صورت میں حضرت موسیٰ کا اس کے پاس آنا بھی محض بے فائدہ تھا۔ پس جبکہ بہرصورت ثابت ہے کہ خضر کو خدائے تعالیٰ کی طرف سے علم یقینی اور قطعی دیا گیا تھا۔ تو پھر کیوں کوئی شخص مسلمان کہلا کر اور قرآن شریف پر ایمان لا کر اس بات سے منکر رہے کہ کوئی فرد بشر امت محمدیہ میں سے باطنی کمالات میں خضر کی مانند نہیں ہوسکتا۔ بلاشبہ ہوسکتا ہے۔ بلکہ خدائے حی قیوم اس بات پر قادر ہے کہ امت مرحومہ محمدیہ کے افراد خاصہ کو اس سے بھی بہتر و زیادہ تر باطنی نعمتیں عطا فرماوےؔ اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ۔ کیا اس خداوند کریم نے آپ ہی اس امت کو یہ دعا تعلیم نہیں فرمائی 3۱؂ کیا اس نے آپ ہی نہیں فرمایا۔ 3۔۲؂ تم یقیناً سمجھو کہ خداوند کریم اس ​ بلکہؔ قبول کرنا تو درکنار ہمارے مخالفوں میں اس قدر شرم بھی باقی نہیں رہی کہ قرآن شریف کی بدیہی عظمتوں اور صداقتوں کو دیکھ کر اور اپنے مذہب کے فسادوں اور ضلالتوں پر مطلع ہوکر بدگوئی اور بدزبانی سے باز رہیں اور باوجود چور ہونے کے پھر چترائی نہ دکھلاویں۔ مثلاً خیال کرنا چاہئے کہ عیسائیوں کے عقائدؔ کا باطل ہونا کس قدر بدیہی ہے کہ خواہ نخواہ منہ زوری سے ایک عاجز مخلوق کو