عبارت بھی ایسی بلیغ اور فصیح ہو جیسی قرآنؔ کی تو تم کو اس عجز کی وجہ سے سزائے موت
ہیں کہ گویا خدا نے ان کو وہ قوتیں عطا ہی نہیں کیں۔ سو بالآخر عدم استعمال کے باعث سے وہ تمام قوتیں رفتہ رفتہ ضعیف بلکہ قریب قریب مفقود کے ہوتی جاتی ہیں اور انسانی سرشت بالکل منقلب ہو کر حیوانات سے مشابہت پیدا ہوجاتی ہے اور نفس انسانی کا عمدہ
نازل ہو۔ وہ اس کے لئے اور ہریک کے لئے کہ کوئی وجہ یقین کرنے کی رکھتا ہے یا خدا نے کوئی نشان یقین کرنے کا اس پر ظاہر کردیا ہے۔ واجب التعمیل ہے اور جو شخص جس کو اُس الہام کی نسبت باور دلایا گیا ہے۔ اس پر عمل کرنے سے عمداً دست کش ہو وہ مورد غضب الٰہی ہوگا۔ بلکہ اس کے خاتمہ بد ہونے کا سخت اندیشہ ہے۔ بلعم بن بعور کو خدا نے الہام میں لا تدع علیھم کہا۔ یعنے یہ کہ موسیٰ اور اس کے لشکر پر بددعا مت کر۔ اس نے برخلاف امر الٰہی کے حضرت موسیٰ کے لشکر پر بددعا کرنے کا ارادہ کیا آخر اس کا یہ نتیجہ ہوا کہ خدا نے اس کو اپنی جناب سے رد کردیا اور اس کو کتے سے تشبیہ دی وہ الہام ہی تھا جس کی تعمیل سے حضرت موسیٰ کی ماں نے حضرت موسیٰ کو شیرخوارگی حالت میں ایک صندوق میں ڈال کر دریا میں پھینک دیا۔ الہام ہی تھا جس کے دیکھنے کے لئے موسیٰ جیسے اولوالعزم پیغمبر کو خدا نے اپنے ایک بندہ خضر کے پاس جس کا نام بلیاؔ بن ملکان تھا بھیجا تھا۔ جس کے علم قطعی اور یقینی کی نسبت اللہ تعالیٰ نے آپ فرمایا۔33۔۱ سو اسی علم قطعی اور یقینی کا یہ نتیجہ تھا کہ خضر نے حضرت موسیٰ کے روبرو ایسے کام کئے کہ جو ظاہراً خلاف شرع معلوم ہوتے تھے ۔کشتی کو توڑا ایک معصوم بچہ کو قتل کیا ایک غیر ضروری کام کو کسی اجرت کے بغیر اپنے گلے ڈال لیا اور ظاہر ہے
تکؔ پہنچا سکے۔ مگر افسوس کہ اس اندھی اور بے تمیز دنیا میں ایسے لوگ بہت ہی تھوڑے ہیں کہ جو خدا کو اپنا اصلی مقصود ٹھہرا کر اور تعصب مذہبی اور قومی اور دوسرے دنیوی لالچوں سے الگ ہوکر اس روشنی اور صداقت کو قبول کریں کہ جو خدائے تعالیٰ نے خاص قرآن شریف میں رکھی ہے جو اس کے غیر میں نہیں پائی جاتی۔