بنا لاؤ۔ جس میں وہ سب مضمونؔ معہ اپنے تمام دقائق حقائق کے آجائے اور
اورؔ مزاحم ہے۔* اور تقریر اس اعتراض کی یوں کرتے ہیں کہ الہام خیالات کی ترقی کو روکتا ہے اور تحقیقات کے سلسلہ کو آگے چلنے سے بند کرتا ہے۔ کیونکہ الہام کے پابند ہونے کی حالت میں ہریک بات میں یہی جواب کافی سمجھا جاتا ہے کہ یہ امر ہماری الہامی کتاب میں جائز یا ناجائز لکھا ہے۔ اورؔ قویٰ عقلیہ کو ایسا معطل اور بیکار چھوڑ دیتے
رہے۔ اور کسی زمانہ میں جھوٹ سچ کا مقابلہ نہ کرسکے۔ امت محمدیہ کو انتہاء زمانہ تک یہ دو معجزے یعنے اعجاز کلام قرآن اور اعجاز اثر کلام قرآن عطا فرمائے ہیں جن کے مقابلہ سے مذاہب باطلہ ابتداء سے عاجز چلے آتے ہیں۔ اور اگر صرف اعجاز کلام قرآن کا معجزہ ہوتا اور اعجاز اثر قرآن کا معجزہ نہ ہوتا تو امت مرحومہ محمدیہ کو آثار اور انوار ایمان میں کیا زیادتی ہوتی۔ کیونکہ مجرد زہد اور عفت اعجاز کی حد تک نہیں پہنچ سکتا۔ کیا ممکن نہیں کہ کوئی پادری یا پنڈت یا برہمو اپنی فطرت سے ایسا سلیم ہو کہ بطور ظاہری عفت اور زہد اور دیانت کا طریق اختیار کرے۔ پھر جس حالت میں زہد خشک ہریک فرقہ میں ممکن ہے۔ تو مومن اور غیر مومن میں من حیث الآثار مابہ الامتیاز کیا رہا۔ حالانکہ اہل حق اور اہل باطل میں من حیث الآثار مابہؔ الامتیاز ہونا نہایت ضروری ہے۔ کیونکہ اگر مومن بھی آسمانی نوروں سے ایسا ہی بے نصیب ہو۔ جیسے ایک بے ایمان بے نصیب ہے۔ تو اس کے ایمان کا کونسا نور اس دنیا میں ظاہر ہوا اور ایمان کو بے ایمانی پر کیا ترجیح ہوئی اور خود جس حالت میں اعجاز اثر قرآن ظاہر ہے جس میں تسلی کردینے کے لئے ہم آپ ہی متکفل ہیں تو پھر باوجود اس بدیہی دلیل کے طوالت کلام کی کچھ حاجت نہیں جس کو شک ہو وہ آزماوے جس کو شبہ ہو وہ تجربہ کر لیوے۔ اور اس جگہ یہ بھی واضح رہے کہ جو امر بذریعہ الہام الٰہی کسی پر
*الہامؔ کامل اور حقیقی کہ جو برہمو سماج والوں اور دوسرے مذاہب باطلہ کے ہریک قسم کے وساوس کو بکلی دور کرتا ہے۔ اور طالب حق کو مرتبہ یقینِ کامل تک پہنچاتا ہے۔ وہ فقط قرآن شریف ہے اور بجز اس کے دنیا میں کوئی ایسی کتاب نہیں کہ جو تمام فرقوں کے اوہام باطلہ کو دور کرسکے اور انسان کو حق الیقین کے درجہ