صرف دو چار سطرؔ کا کوئی مضمون لے کر اسی کے برابر یا اس سے بہتر کوئی نئی عبارت ​علیہ وسلمکی کامل حالت سے بکلی مندفع ہوگیا۔ کیونکہ وجودِ با ُ جود آنحضرتؔ صلوسلم عل کا ہریک نبی کے لئے متمم اور مکمل ہے اور اس ذات عالی کے ذریعہ سے جو کچھ امر مسیح اور دوسرے نبیوں کا مشتبہ اور مخفی رہا تھا۔ وہ چمک اٹھا۔ اور خدا نے اس ذات مقدس پر انہیں معنوں کرکے وحی اور رسالت کو ختم کیا کہ سب کمالات اس وجود با ُ جودپر ختم ہوگئے۔ وھذا فضل اللّٰہ یؤتیہ من یشآء۔ وسوسہ دہم۔ بعض کوتہ فکر لوگ یہ وسوسہ پیش کرتے ہیں کہ الہام میں یہ خرابی اور نقص ہے کہ وہ معرفت کامل تک پہنچنے سے کہ جو حیات ابدی اور سعادت دائمی کے حصول کا مدار علیہ ہے مانع ​ کوئی روحانی برکت اور آسمانی تائید اپنی شامل حال رکھتا ہے۔ کیا کوئی زمین کے اس سرے سے اس سرے تک ایسا متنفّس ہے کہ قرآن شریف کے ان چمکتے ہوئے نوروں کا مقابلہ کرسکے۔ کوئی نہیں ایک بھی نہیں۔ بلکہ وہ لوگ جو اہل کتاب کہلاتے ہیں ان کے ہاتھ میں بھی بجز باتوں ہی باتوں کے اور خاک بھی نہیں۔ حضرت موسیٰ کے پیرو یہ کہتے ہیں کہ جب سے حضرت موسیٰ اس دنیا سے کوچ کرگئے تو ساتھ ہی ان کا عصا بھی کوچ کرگیا کہ جو سانپ بنا کرتا تھا اور جو لوگ حضرت عیسیٰ کے اتباع کے مدعی ہیں۔ ان کا یہ بیان ہے کہ جب حضرت عیسیٰ آسمان پر اٹھائے گئے تو ساتھ ہی ان کے وہ برکت بھی اٹھائی گئی جس سے حضرت ممدوح ُ مردوں کو زندہ کیا کرتے تھے۔ ہاں عیسائی یہ بھی کہتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ کےؔ باراں حواری بھی کچھ کچھ روحانی برکتوں کو ظاہر کیا کرتے تھے۔ لیکن ان کا یہ بھی تو قول ہے کہ وہی عیسائی مذہب کے باراں امام آسمانی نوروں اور الہاموں کو اپنے ساتھ لے گئے اور ان کے بعد آسمان کے دروازوں پر پکے قفل لگ گئے اور پھر کسی عیسائی پر وہ کبوتر نازل نہ ہوا کہ جو اول حضرت مسیح پر نازل ہوکر پھر آگ کے شعلوں کا بہروپ بدل کر حواریوں پر نازل ہوا تھا۔ گویا ایمان کا وہ نورانی دانہ کہ جس کے شوق میں وہ آسمانی کبوتر اترا کرتا تھا انہیں کے ہاتھ میں تھا اور پھر بجائے اس دانہ کے عیسائیوں کے ہاتھ میں دنیا کمانے کی پھائی رہ گئی جس کو دیکھ کر وہ کبوتر آسمان کی طرف اڑ گیا۔ غرض بجز قرآن شریف کے اور کوئی ذریعہ آسمانی نوروں کی تحصیل کا موجود نہیں اور خدا نے اس غرض سے کہ حق اور باطل میں ہمیشہ کے لئے مابہ الامتیاز قائم