میعاد ہے۔ اسؔ طور پر قرآن کی نظیر پیش کرکے نہ دکھلاؤ کہ قرآن کے کسی مقام میں سے
اورؔ زہد اور قناعت اور مردی اور شجاعت اور محبت الٰہیہ کے متعلق جو جو اخلاق فاضلہ ہیں۔ وہ بھی خداوند کریم نے حضرت خاتم الانبیاء میں ایسے ظاہر کئے کہ جن کی مثل نہ کبھی دنیا میں ظاہر ہوئی اور نہ آئندہ ظاہر ہوگی۔ لیکن حضرت مسیح علیہ السلام میں اس قسم کے اخلاق بھی اچھی طرح ثابت نہیں ہوئے۔ کیونکہ یہ سب اخلاق بجز زمانہ اقتدار اور دولت کے بہ پایہ ثبوت نہیں پہنچ سکتے اور مسیح نے اقتدار اور دولت کا زمانہ نہیں پایا۔ اس لئے دونوں قسم کے اخلاق اس کے زیر پردہ رہے اور جیسا کہ شرط ہی ظہور پذیر نہ ہوئی۔ پس یہ اعتراض مذکورہ بالا جو مسیح کی ناقص حالت پر وارد ہوتا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ
محفوظ رہتی ہیں۔
واضح ہو کہ قرآن شریف میں دو طور کا معجزہ ہمیشہ کے لئے رکھا گیا ہے۔ ایک اعجاز کلام قرآن دوم اعجاز اثر کلام قرآن۔ یہ دونوں اعجاز ایسے بدیہی ہیں کہ اگر کسی کا نفس اعراض صوری یا معنوی سے محجوب نہ ہو تو فی الفور وہ اس نور صداقت کو بچشم خود مشاہدہ کرلے گا۔ اعجاز کلام قرآن کے بیان پر تو یہ ساری کتاب مشتمل ہے اور بعض قسم کے اعجاز حاشیہ نمبر ۱۱ میں لکھے بھی گئے ہیں۔ اعجاز اثر کلام قرآن کی نسبت ہم یہ ثبوت رکھتے ہیں کہ آج تک کوئی ایسی صدی نہیں گزری جس میں خدائے تعالیٰ نے مستعد اور طالب حق لوگوں کو قرآن شریف کی پوری پوری پیروی کرنے سے کامل روشنی تک نہیں پہنچایا۔ اور ابؔ بھی طالبوں کے لئے اس روشنی کا نہایت وسیع دروازہ کھلا ہے۔ یہ نہیں کہ صرف کسی گزشتہ صدی کا حوالہ دیا جائے۔ جس طرح سچے دین اور ربانی کتاب کے حقیقی تابعداروں میں روحانی برکتیں ہونی چاہئیں اور اسرار خاصہ الٰہیہ سے ملہم ہونا چاہئے وہی برکتیں اب بھی جوئیندوں کے لئے مشہود ہوسکتی ہیں جس کا جی چاہے صدق قدم سے رجوع کرے اور دیکھے اور اپنی عاقبت کو درست کرلے۔ انشاء اللہ تعالیٰ ہریک طالب صادق اپنے مطلب کو پائے گا اور ہریک صاحب بصارت اس دین کی عظمت کو دیکھے گا۔ مگر کون ہمارے سامنے آکر اس بات کا ثبوت دے سکتا ہے کہ وہ آسمانی نور ہمارے کسی مخالف میں بھی موجود ہے۔ اور جس نے حضرت محمد مصطفی صلوسلم عل کی رسالت اور افضلیت اور قرآن شریف کے منجانب اللہ ہونے سے انکار کیا ہے۔ وہ بھی