پہلی وجہ میں ذکر ہوچکا ہے۔ عبارت میں اس قدر فصاحتؔ اور موزونیت اور لطافت
اورؔ دوسرے لوگوں پر بکلی فتح پاکر اور ان کو اپنی تلوار کے نیچے دیکھ کر پھر ان کا گناہ بخش دیا۔ اور صرف انہیں چند لوگوں کو سزا دی جن کو سزا دینے کے لئے حضرت احدیّت کی طرف سے قطعی حکم وارد ہوچکا تھا۔ اور بجز ان ازلی ملعونوں کے ہریک دشمن کا گناہ بخش دیا اور فتح پاکر سب کو لَا تَثْرِیْبَ عَلَیْکُمْ الْیَوْمَ کہا۔ اور اُسے عفو تقصیر کی وجہ سے کہ جو مخالفوں کی نظر میں ایک امر محال معلوم ہوتا تھا اور اپنی شرارتوں پر نظر کرنے سے وہ اپنے تئیں اپنے مخالف کے ہاتھ میں دیکھ کر مقتول خیال کرتے تھے۔ ہزاروں انسانوں نے ایک ساعت میں دین اسلام قبول کرلیا اور حقانی صبر آنحضرت صلوسلم عل کا کہ جو ایک زمانۂ دراز تک آنجناب نے ان کی سخت سخت ایذاؤں پر
کامل ثبوتوں سے اور کامل شہادتوں سے روشن ہوچکا ہے۔ وہ صرف مونہہ کی فضول اور بیہودہ باتوں سے ٹوٹ نہیں سکتا۔ فتدبر وتفکر۔
صورتِ پنجم الہام کی وہ ہے جس کا انسان کے قلب سے کچھ تعلق نہیں بلکہ ایک خارج سے آواز آتی ہے اور یہ آواز ایسی معلوم ہوتی ہے جیسے ایک پردہ کے پیچھے سے کوئی آدمی بولتا ہے۔ مگر یہ آواز نہایت لذیذ اور شگفتہ اور کسی قدر سرعت کے ساتھ ہوتی ہے اور دل کو اس سے ایک لذت پُہنچتی ہے۔ انسان کسی قدر استغراق میں ہوتا ہے کہ یکدفعہ یہ آواز آجاتی ہے اور آواز سن کر وہ حیران رہ جاتا ہے کہ کہاں سے یہ آواز آئی اور کس نے مجھ سے کلام کی۔ اور حیرت زدہ کی طرح آگے پیچھے دیکھتا ہے پھر سمجھ جاتا ہے کہ کسی فرشتہ نے یہ آواز دی۔ اور یہ آواز خارجی اکثر اس حالت میں بطور بشارت آتی ہے کہ جب انسان کسی معاملہ میں نہایت متفکّر اور مغموم ہوتاؔ ہے یا کسی بدخبری کے سننے سے کہ جو اصل میں محض دروغ تھی۔ کوئی سخت اندیشہ اس کو دامنگیر ہوجاتا ہے۔ مگر صورت دوم کی طرح اس میں مکرّر دعاؤں پر اس آواز کا صادر ہونا مشہود نہیں ہوا بلکہ ایک ہی دفعہ اسی وقت کہ جب خدائے تعالیٰ چاہتا ہے۔ کوئی فرشتہ غیب سے ناگہانی طور پر