قرآن شریف باوجودؔ اس ایجاز اور اس احاطہ حق اور حکمت کے جس کا
نسبت دلوں میں گزر سکتا ہے یعنے یہ کہ اخلاق حضرت مسیح علیہ السلام دونوں قسم مذکورہ بالا پر علیٰ وجہ الکمال ثابت نہیں ہوسکتے بلکہ ایک قسم کے رو سے بھی ثابت نہیں ہیں۔ کیونکہ مسیح نے جو زمانہ مصیبتوں میں صبر کیا۔ تو کمالیّت اور صحت اس صبر کی تب بہ پایہ صداقت پہنچ سکتی تھی کہ جب مسیح اپنے تکلیف دہندوں پر اقتدار اور غلبہ پاکر اپنے موذیوں کے گناہ دلی صفائی سے بخش دیتا جیسا حضرت خاتم الانبیاء صلوسلم عل نے مکہ والوں
کوئی اوتار آنے والا ہے جس سے دھرم کی ترقی ہوگی۔ تو ایسی خوابیں ان کی اگر بعض اوقات سچی ہوں۔ تو ان کی یہ تعبیر ہوتی ہے کہ اس مسیح اور اس اوتار سے مراد کوئی محمدی شخص ہوتا ہے کہ جو دین کی ترقّی اور اصلاح کے لئے اپنے وقت پر ظہور کرتا ہے اور چونکہ وہ اپنی نورانیت میں تمام مقدسوں کا وارث ہوتا ہے اس لئے مشتبہ الخیال لوگوں کی قوت متخیلہ میں ایسی صورت پر نظر آتا ہے یعنے ان کو وہ ایک ایسے شخص کی صورت میں متصور ہوکر دکھائی دیتا ہے جس کو وہ اپنے اعتقاد کے رو سے بڑا مقدّس اور کامل اور راستی کا پیشوا اور اپنا ہادی خیال کرتے ہیں۔ غرض عیسائیوں اورؔ ہندوؤں کی خوابیں اکثر اوقات بے اصل اور سراسر دروغ یا مشتبہ نکلتی ہیں۔ پس بنظر ان تمام وجوہات کے یہ بات بخوبی بدیہی طور پر ثابت ہے کہ رؤیا صادقہ کا کثرت سے آنا، اور کامل طور پر آنا اور مہمات عظیمہ میں آنا اور انکشاف تام سے آنا۔ یہ خاصہ امت محمدیہ کا ہے۔ اس میں کسی دوسرے فرقہ کو مشارکت نہیں۔ اور عدم مشارکت کی وجہ یہی ہے کہ وہ تمام لوگ صراط مستقیم سے دور اور مہجور ہیں اور ان کے خیالات دنیا پرستی اور مخلوق پرستی اور نفس پرستی میں لگے ہوئے ہیں اور راستبازوں کے نور سے کہ جو خدائے تعالیٰ کی طرف سے ان کو ملتا ہے بکلی بے بہرہ اور بے نصیب ہیں۔ یہ صرف دعویٰ نہیں۔ یہ صرف زبان کی بات نہیں۔ یہ ایک ثابت شدہ صداقت ہے جس سے کوئی عقلمند اگر انکار کرے۔ تو اس پر لازم ہے کہ مقابلہ کرکے دکھلاوے۔ کیونکہ جو امر